خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 452
خطبات طاہر جلد ۲ اور پھر فرمایا: 452 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء ابھی چند دن تک انشاء اللہ تعالیٰ ہم مشرق کے دورہ پر پاکستان سے روانہ ہوں گے اور اس دورہ میں براعظم آسٹریلیا میں سب سے پہلی احمد یہ مسجد کی بنیا د رکھنے کا سب سے اہم فریضہ ادا کرنا ہے۔یہ مسجد کی بنیاد بھی ہوگی اور مشن ہاؤس کی بنیاد بھی ہوگی یعنی اس مسجد کے ساتھ ایک بہت ہی عمدہ مشن ہاؤس کی عمارت بھی تعمیر ہوگی جہاں مبلغ اپنے ہر قسم کے فرائض پورے کر سکے گا۔اس لحاظ سے یہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک بہت ہی اہم مسجد ہے کہ ایک نئے براعظم میں ہمیں اس کی بنیا در کھنے کی توفیق مل رہی ہے۔اس سے قبل بر اعظم آسٹریلیا خالی پڑا تھا اور جماعت یہ تو کہ سکتی تھی کہ دنیا کے ہر براعظم میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کا پیغام پہنچایا ہے لیکن براعظم آسٹریلیا میں اگر پیغام پہنچا تو اتفاقاً، انفرادی کوشش سے پہنچا جماعت کی طرف سے کوئی با قاعدہ مشن نہیں بنایا گیا اور کوئی مسجد نہیں بنائی گئی تھی۔مسجد کے لئے جو زمین لی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت با موقع اور کافی بڑا رقبہ ہے۔آسٹریلیا کا ایک مشہور شہر سڈنی ہے۔سڈنی سے تقریباً پچاس میل کے فاصلے کے اندر یہ جگہ واقع ہے اور بڑے بڑے شہروں میں پچاس میل کا فاصلہ کوئی چیز نہیں ہوا کرتا۔۲۷ ایکڑ سے کچھ زائد رقبہ ہے جس میں انشاء اللہ مسجد بھی بنائی جائے گی اور مشن ہاؤس بھی اور آئندہ جماعت کی دلچسپیوں کے لئے ہر قسم کے مواقع وہاں مہیا ہوسکیں گے۔۲۷ ایکٹ میں تو ماشاء اللہ ہمارا جلسہ سالا نہ ہوسکتا ہے اس لئے ہم بڑی امید لے کر اتنا بڑا رقبہ لے رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ جلد اس کو بھر بھی دے اور چھوٹا بھی کر دے اور یوں ہماری تو قعات نا کام ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اس سے بہت آگے نکل جائیں، ان دعاؤں کے ساتھ انشاء اللہ اس مسجد کا سنگ بنیا درکھا جائے گا۔پاکستان سے اس سفر پر روانہ ہونے سے پہلے میرا یہ آخری خطبہ ہوگا اس لئے میں نے اس مسجد کے ذکر اور مساجد کی تعمیر کے مضمون ہی کو آج کے خطبہ کا موضوع بنایا ہے۔سب سے اہم مسجد جو دنیا میں تعمیر کی گئی اور جس کے مقاصد میں آنحضرت ﷺ کی بعثت شامل تھی وہ بیت الحرام ہے یعنی خدا کا وہ پہلا گھر جو مکہ میں بنایا گیا۔اس گھر سے پہلے وہاں کوئی شہر آباد نہیں تھا اس لئے مکہ میں بنایا گیا“ کے الفاظ شاید اس مضمون کو پوری طرح واضح نہیں کرتے۔جب بھی خدا ک یہ گھر بنایا گیا اس کی تفصیلی تاریخ ہمارے پاس محفوظ نہیں قرآن کریم سے صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ: