خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 440

خطبات طاہر جلد ۲ 440 خطبه جمعه ۲۶ را گست ۱۹۸۳ء تو پھر انسان تو جھوٹا ہو گا خدا جھوٹا نہیں ہے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہماری کچھ وسعتیں ایسی ہیں جن کو ہم نے پوری طرح ٹولا نہیں اور ٹولنے کے بعد محسوس کر کے ان پر ذمہ داری کی کاٹھی نہیں ڈالی ، ان کی تربیت نہیں کی خدا کی راہ میں خدمت کے لئے پیش کرنے کی۔جب تک ہم اپنے نفس کو ٹول کر اس کی صلاحیتوں کی تربیت نہ کریں وہ اس لائق نہیں ہے کہ اسے خدا کے حضور پیش کیا جا سکے اس لئے انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی میں نے نظر ڈالی تو بے شمار وسعتیں ہیں جن سے استفادہ نہیں کیا جا رہا۔ہر احمدی اگر اپنی ذات پر غور کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو جو طاقتیں ودیعت کی ہیں ان سے وہ پورا استفادہ نہیں کر رہا اور خصوصاً دین کے معاملہ میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔وہ اپنے بچوں کی تربیت نہیں کر رہا، اپنی بیوی کی تربیت کا حق ادا نہیں کر رہا وہ طاقتیں جو خدا نے اسے دی ہیں انہیں ضائع کر رہا ہے۔کھیل کو د اور لہو و لعب میں اپنی جائز ضرورت سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے۔کچھ تو انسان کا تفریح کا حق ہے وہ اس کی بناوٹ میں داخل ہے لیکن کچھ اس سے زائد ہوتا ہے اور جب تو میں تفریح کے حق سے بہت زیادہ وقت خرچ کرنے لگ جائیں تو وہ اپنی قوتوں کو ضائع کر رہی ہوتی ہیں۔پھر بہت سی ایسی زبانیں ہیں جو دین کی خاطر گھر بیٹھے سیکھ سکتے ہیں بہت سا علم ہے دین کا جو آپ پڑھا سکتے ہیں، اس کی طرف پوری توجہ نہیں۔عبادت ہے اس کی طرف پوری توجہ نہیں ، جتنا کہ حق ہے ویسی ہونی چاہئے۔غرضیکہ آپ اپنی نظر کو پھیلاتے چلے جائیں تو ہر انسان کے اندر آپ کو ایسے بے شمار گوشے نظر آئیں گے جہاں اللہ تعالیٰ نے وسعتیں تو عطا فرمائی ہیں لیکن ان وسعتوں سے ہم پورا فائدہ نہیں اٹھا ر ہے اس لئے جب جماعت کی ایک اجتماعی شکل بنتی ہے تو ایسے بکثرت احمدی جماعت میں شامل ہیں جن کی وسعتوں میں سے ایک تھوڑا سا حصہ جماعت کو ملا ہوا ہے اور پھر جماعت کی جو اجتماعی شکل بنتی ہے اس میں تمام ذمہ دار کارکنان جو جماعت میں شامل ہیں یا جن پر بوجھ ڈالے جاتے ہیں وہ آگے پھر اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کرتے اور اپنی وسعتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ایسے مربیان بھی ہیں ، بیرونی ممالک کے مبلغین بھی ہیں، دفتروں میں کام کرنے والے بھی ہیں، اگر وہ اپنے آپ کو ٹولنا شروع کریں تو محسوس کریں گے کہ ابھی وہ بہت کچھ اور بھی کر سکتے تھے لیکن نہیں کر سکے یا نہیں کیا۔تذبر کی باتیں دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو تدبر کا ایک ملکہ عطا فرمایا ہے، فکر کا ملکہ عطا فرمایا ہے اور مسائل کو جانچنا اور ان میں تدبر کرنا اور فکر کے نتیجہ میں نئی نئی راہیں تلاش کرنا یہ انسان