خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 439

خطبات طاہر جلد ۲ 439 خطبه جمعه ۲۶ را گست ۱۹۸۳ء زبانیں نہیں جانتے ، ان کے خیالات سے واقف نہیں ہیں، ان کی قومی عادات سے واقف نہیں ہیں، ان تک پہنچنے کی طاقت نہیں ہے، راہوں میں Barrier اور روکیں ہیں اور اس کے باوجود دل میں یہ یقین ہے کہ خدائی کہ رہا ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا، ہم پر جو بوجھ ڈالا ہے وہ ہم اٹھانے کے اہل ہیں، لیکن کیسے ؟ اب آسٹریلیا کا سفر در پیش ہے اور اسی سلسلہ میں غور کرتے ہوئے میری توجہ مبذول ہوئی کہ آسٹریلیا ایک براعظم ہے جس کو آج تک کسی غیر مذہب نے فتح نہیں کیا۔عیسائیت نے وہاں Aborigines میں کچھ نفوذ کیا لیکن جو عیسائی وہاں آباد ہوئے آج تک کسی نے ان کے قلوب کو فتح نہیں کیا اور ایک بڑی قوم ہے ایک بہت بڑا پھیلا ہوا براعظم ہے اور وہاں ہم ایک مشن کی تعمیر کرنے کے لئے جارہے ہیں اور ایسی ایک دنیا نہیں ایسی سینکڑوں دنیا ئیں ہیں جہاں ابھی تک ہم کوئی نفوذ نہیں کر سکے۔نجی ہے جو بظاہر ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے لیکن اب تک کی کوششوں کے نتیجہ میں پانچ ہزار کے لگ بھگ وہاں احمدی ہیں اور اس میں لاکھوں کی آبادی ہے۔وہاں Aborigines تو نہیں لیکن قدیم باشندے جو افریقن ممالک سے ہجرت کر کے آئے تھے ان کی ایک بھاری تعداد ہے، ہندو بھی وہاں بھاری تعداد میں موجود ہیں اور آسٹریلیا کو تو چھوڑیئے نجی میں بھی ان سب کو مسلمان بنا نا بہت مشکل نظر آتا ہے۔پھر سیلون ہے وہاں کے حالات یہ ہیں کہ بدھسٹ اکثریت میں ہیں اور ان بدھسٹ میں آج تک ہم نفوذ نہیں کر سکے۔ہماری وہاں جو تبلیغ ہوئی ہے وہ زیادہ تر ہندوستانی نسل کے باشندوں میں ہوئی ہے۔وہی ہیں جن میں احمدیت نے کسی طرف سے راستہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں سے کچھ لوگ احمدی ہوئے لیکن باقی جو بدھسٹ لوگ ہیں اور یہ دراصل بدھسٹ کا ملک ہے ان کی غالب اکثریت ہے۔ان میں شاذ کے طور پر احمدی ہوئے ہیں لیکن بحیثیت قوم کے انہوں نے قبول نہیں کیا۔وہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے اس جزیرہ پر بھی ہم اسلام کو پوری طرح غالب کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے جہاں تک اپنے ظاہری حالات کے جائزہ کا تعلق ہے۔پس یہ مضمون سوچتے ہوئے میری توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ وسعتیں کہیں ایسی تو نہیں جن کو ہم نے ابھی کھنگال کر دیکھا نہ ہو، ایسی وسعتیں تو نہیں جن کو ہم نے ابھی تک دریافت نہ کیا ہو۔خدا کی بات تو بہر حال درست ہے کہ ہمارے اندر وسعت موجود ہے لیکن اگرUntapped Resources پڑی رہیں، اگر انسان جو کچھ خدا تعالیٰ نے اسے ودیعت کیا ہے اس سے پوری طرح استفادہ نہ کرے