خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 423

خطبات طاہر جلد ۲ 423 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۳ء شعلہ حیات کو بجھانے والو! تم نے تو اسے ابدی زندگی کا جام پلا دیا۔زندگی اس کے حصہ میں آئی اور موت تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی۔مذہبی آزادی کا قرآنی تصور تو ایک بہت پاک اور اعلیٰ اور ارفع اور وسیع تصور ہے اسے جبرو اکراہ کے مکروہ اور مجزوم تصور میں بدلنے والو اور اے مذہب کے پاک سر چشمہ سے پھوٹنے والی لا زوال محبت کو نفرت اور عناد میں تبدیل کرنے والو! اے ہر نور کو نار میں اور ہر رحمت کو زحمت میں بدلنے کے خواہاں بدقسمت لوگو! جو انسان کہلاتے ہو۔یا درکھو کہ تمہاری ہر سفلی تدبیر خدائے برتر کی غالب تقدیر سے ٹکرا کر پارہ پارہ ہو جائے گی۔تمہارے سب نا پاک ارادے خاک میں ملا دیئے جائیں گے اور رب اعلیٰ کے مقدر کی چٹان سے ٹکر اٹکرا کر اپنا سر ہی پھوڑو گے۔تمہاری مخالفت کی ہر جھاگ اٹھاتی ہوئی لہر ساحل اسلام سے ٹکر ا کرنا کام لوٹے گی اور بکھر جائے گی اور اسے پیش قدمی کی اجازت نہیں ملے گی۔اے اسلام کے مقابل پر اٹھنے والی ظاہری اور مخفی ، عیاں اور باطنی طاقتو ! سنو کہ تمہارے مقدر میں ناکامی اور پھر نا کامی اور پھر نا کامی کے سوا کچھ نہیں اور دیکھو کہ اسلام کے جاں نثار اور فدائی ہم وہ مردان حق ہیں جن کی سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔اللہ تعالیٰ دکھائے گا ، وہ دن دور نہیں کہ ہر وہ لفظ جو آج میں نے آپ سے بیان کیا ہے سچا ثابت ہوگا کیونکہ یہ میرے منہ کی بات نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا ایسا اٹل فیصلہ ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوا اور کبھی تبدیل نہیں ہوگا۔احمدیت نے کبھی نا کام نہیں ہونا، کسی منزل پر نا کام نہیں ہونا آگے سے آگے بڑھنا ہے۔پس اے دوستو ! جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہوتے ہو تم اللہ کی راہ میں جتنی زیادہ شہادتیں پیش کرنے کی توفیق پاؤ گے اتنی ہی زیادہ کا میابیاں تمہارے مقدر میں لکھی جائیں گی۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہوا اور جلد اسلام کی فتح کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔آمین۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۲ / اگست ۱۹۸۳ء)