خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 399

خطبات طاہر جلد ۲ 399 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۳ء هُوَ بِبَالِغہ لیکن ایسا نہ ہو سکے اور پیا سا اپنا ہاتھ بڑھاتا چلا جائے لیکن پانی اس کے قریب نہ پہنچے اور اس کے ہونٹوں تک پہنچ کر بھی اس کی پیاس نہ بجھا سکے۔وَمَا دُعَاءُ الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَلٍ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کی دعا سوائے گمراہی اور بے کار جانے کے اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اب اس نقشے کو آج آپ دنیا کی قوموں پر چسپاں کر کے دیکھیں کیسا حیرت انگیز طور پر یہ مضمون ان پر صادق آتا ہے۔دنیا کی جتنی بھی قومیں ہیں جب لوگ ان سے مانگتے ہیں تو ساتھ Strings Attach کر دیتے ہیں اس کے ساتھ کچھ پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔لینے والوں کی گردنیں آزاد نہیں کی جاتی ہیں بلکہ ان کی گردنیں غلام بنائی جاتی ہیں۔چنانچہ دینے والے اس طرز پر مدد کرتے ہیں کہ لینے والا کبھی بھی ان کی مدد سے پھر آزاد نہ ہو سکے۔اس نئے دور میں آج تک ایک بھی قوم آپ کے سامنے ایسی نہیں آئے گی جس نے دنیا کی عظیم قوموں کی طرف مدد کے لئے ہاتھ بڑھایا ہواور پھر ان کی مدد سے آزاد ہو گئی ہو۔ایسی قومیں مدد لینے کے لئے جاتی ہیں لیکن دن بدن سود کے شکنجوں میں جکڑی جاتی ہیں، قرض کے شکنجوں میں جکڑی جاتی ہیں۔جو کارخانے ان کی مدد سے بنائے جاتے ہیں ان کے (Spare parts) فالتو پرزے مانگتے مانگتے ہی عمریں گزر جاتی ہیں اور ایک دن بھی ان کی قسمت میں ایسا نہیں آتا کہ وہ آزاد ہوں۔ہر غریب ملک اور غریب قوم کی یہی تقدیر ہے جو آج چل رہی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ اب ایسا سال چڑھے گا کہ ہماری پیاس بجھے گی اور ہماری قومی ضرورت پوری ہو گی لیکن وہ سال ان سے آگے آگے بھاگتا رہتا ہے۔ایک ہی ہے دینے والا جس کی عطا کے ساتھ کوئی String نہیں کوئی قید نہیں ہوتی۔وہ جب کسی کو کچھ عطا فرما تا ہے تو اس بات سے مستغنی ہو جاتا ہے کہ وہ اس کا شکر بھی ادا کرتا ہے یا نہیں اور بعض دفعہ ایسی حالتوں میں بھی عطا کرتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ انسان ناشکری کرے گا پھر بھی وہ اسے عطا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ ان لوگوں کو بھی عطا کرتا ہے جو اس کی ہستی کا انکار کرتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی ذات بڑی عجیب ذات ہے، فرماتا ہے تمہیں ان دنیا والوں کی بجائے اس ذات کی طرف جانا اور اسے ہی مدد کے لئے پکارنا چاہئے جس کی یہ صفات ہیں اور جو لا متناہی خزانوں کا مالک ہے اور لازماً پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے۔تم اس خدا کو چھوڑ کر ، دنیا کی طرف جا کر ، دنیا کی طرف دوڑ کر خود اپنی ہلاکت کے سامان پیدا کر رہے ہو۔یہ دنیا تو ایک سراب ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔