خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 396 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 396

خطبات طاہر جلد ۲ 396 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۳ء رات کی تاریکیوں میں یہ اپنے بستروں کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم ان کی آواز کو سنتے ہیں ہم ان کی مددکو آتے ہیں۔اسی طرح ان کی طمعیں بھی ان کی حرص و ہوا، ہر خواہش اور ہر تمنا خدا ہی کی طرف رخ اختیار کرتی ہے۔فرمایا مومن بندے خوف میں بھی اپنے رب کو پکارتے ہیں اور طمع میں بھی اسی کو پکارتے ہیں جب کہ دنیا کی حالت اس کے بالکل برعکس ہے۔مثلاً ایک بچہ امتحان میں بیٹھتا ہے۔اگر دنیا داری اس پر غالب ہوگی تو وہ یہ سوچے گا کہ میں کس طرح ممتحن تک پہنچوں ، کس طرح سفارش کرواؤں، کس طرح کوشش کروں کہ میرے اچھے نمبر آجائیں لیکن سینکڑوں ہزاروں احمدی بچے ہیں جن کے دماغ میں سب سے پہلے یہ خیال آتا ہے کہ وہ دعا کے لئے خط لکھیں۔چنانچہ جب یہ دعائیہ خطوط آتے ہیں تو انہیں دیکھ کر میری روح بڑی لذت محسوس کرتی ہے اس خیال سے کہ ہر لکھنے والے کے دماغ میں پہلا خیال اپنے رب کا آیا ہے اور یہ معصوم بچے اس فوج میں داخل ہو گئے ہیں جو يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا والی فوج ہے۔اسی طرح تربیت پاتے ہوئے جب یہ بڑے ہوں گے تو ان پر ہمیشہ اپنے رب کا خیال غالب رہے گا اور وہی ایک خیال ہے جو ان کی روح پر قبضہ کئے رکھے گا۔اسی طرح بعض لوگ ہیں جو رشوت کو خدا بنا لیتے ہیں اور ہر حرص کے وقت سوچتے ہیں کہ رشوت دے کر کام چلائے جائیں گے، بعض لوگوں نے سفارشوں کو خدا بنایا ہوا ہوتا ہے اور بعض نے دوستیوں کو خدا بنایا ہوا ہوتا ہے اور وہ ہر جائز اور نا جائز ذرائع کو اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتے۔وہ کوشش کرتے ہیں کہ ہر حالت میں کسی نہ کسی طرح ان کی حرص پوری ہونی چاہئے۔اس کے برعکس ایسے بھی بندے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ راتوں کو اٹھتے ہیں اور خوف اور طمع میں دعا کا رخ میری جانب پھیر دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اے خدا! ہمارا اور کوئی سہارا نہیں ہے نہ ہمیں کسی کی دوستی کی پرواہ ہے اور نہ اس پر اعتماد، نہ ہی ہم نا جائز طریق اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ اس سے تو نے منع کر دیا ہے ، اس بے بسی کی حالت میں ہم تیری طرف ہی جھکتے ہیں اور تجھے ہی پکارتے ہیں کہ تو ہماری مددفرما۔اس پر خدا تعالیٰ یہ نہیں فرما تا کہ پھر ہم ان کی دعاؤں کو قبول کرتے ہیں اور یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں بلکہ یہ گویا ایک Understood یعنی تسلیم شدہ بات ہوتی ہے کہ ایسی دعائیں لازماً قبول ہوں گی۔پھر آگے ان کے عمل کا ذکر فرما دیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ