خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 395

خطبات طاہر جلد ۲ 395 خطبہ جمعہ ۲۹ جولائی ۱۹۸۳ء سکتی وہ سینکڑوں میل دور قید خانوں اور ڈنجنز میں پڑی ہوتی تھیں اور اپنے بادشاہ کو آواز میں دیا کرتی تھیں۔چنانچہ اسلامی تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ کسی نے ایک عورت کی آواز سنی اور بادشاہ تک پہنچائی تو اس کی آواز کی خاطر غیرت دکھاتے ہوئے بادشاہ نے لشکر کشی کی اور اس حکومت کو مجبور کر دیا کہ اس مظلوم عورت کو آزاد کرے لیکن ایسے اتفاق ہی ہوتے ہیں۔سینکڑوں میں ہزاروں میں ایک دفعہ وہ آواز اس جگہ تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک پہنچانا مقصود ہوتی ہے جب کہ اکثر آواز میں صدا بصحر اثابت ہوتی ہیں، پکارنے والا پکارتا رہ جاتا ہے اور سننے والا کجا یہ کہ اس کی مدد کر سکے وہ اس کی تکلیف سے ہی غافل رہتا ہے ، اور اگر غفلت نہ بھی کرے تب بھی اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ اس بات کا اہل ہی نہ ہو کہ وقت پر اس کی تکلیف کو دور کر سکے۔چنانچہ اسی مضمون پر غالب یہ کہتا ہے : ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک (دیوان غالب) اے میرے محبوب ! مجھے معلوم ہے کہ تجھے مجھ سے اتنا پیار ہے کہ میرے درد کی پکار جب تم تک پہنچے گی تو تم بے اختیار دوڑ پڑو گے لیکن تم بھی آخر انسان ہو اور بے بس ہو۔میری تکلیف تو اتنی زیادہ ہے کہ تمہیں خبر پہنچنے تک ہی میں جل کر خاک ہو چکا ہوں گا۔پس دنیا والے ہمیشہ دنیا والوں ہی کو پکارتے ہیں لیکن اکثر صورتوں میں ان کی پکار ضائع ہو جاتی ہے اور بے کار چلی جاتی ہے اور جہاں تک پہنچانا مقصود ہوتی ہے وہاں تک پہنچتی ہی نہیں۔اگر وہاں تک پہنچ بھی جائے تو پھر اس کے جواب میں امدادی کا رروائی میں تاخیر ہو جاتی ہے یا مدد کرنے والا اس بات کا اہل ہی نہیں ہوتا کہ وہ مدد کر سکے۔ایک ہی ذات ہے اور وہ ہمارے رب کریم کی ذات ہے جسے آپ جب بھی پکاریں گے اس کو ہمیشہ موجود پائیں گے مخفی سے مخفی آواز بھی ایسی نہیں جو اس تک نہ پہنچے۔دل کی گہرائیوں میں پیدا ہونے والے اور کروٹیں لینے والے خیالات بھی اس تک پہنچتے ہیں۔چنانچہ جس پکار کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ بھی ایک تنہائی کی اور اندھیرے کی پکار ہے تجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا فر مایا یہ میرے بندے مجھے ایسی حالت میں پکارتے ہیں جب دنیا میں ان کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا کوئی ان کی آواز نہیں سن رہا ہوتا۔