خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 389
خطبات طاہر جلد ۲ 389 خطبہ جمعہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۳ء توڑیں گے تو کسی نہ کسی برکت سے محروم رہ جائیں گے۔میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ بعض کوششیں بہت اچھی اور بڑی محنت سے کی جاتی ہیں لیکن اگر غفلت کی وجہ سے کسی وقت دعا سے توجہ ذرا ہٹ جائے یا کم ہو جائے تو الٹ نتیجے ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور جو نہی دعا کی طرف توجہ مبذول ہوتی ہے تو وہ ساری باتیں درست ہونے لگ جاتی ہیں اس لئے جماعت احمدیہ کے لئے بہر حال یہ ضروری ہے کہ وہ دعا سے غافل نہ ہو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو لازما کامیابی نصیب ہوگی کیوں کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے۔میں نے جو آیات تلاوت کی ہیں ان میں خدا تعالیٰ نے قطعی وعدہ فرمایا ہے کہ آخرت اور عاقبت متقین کے لئے ہے اور انہیں ہی نصیب ہوگی تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ان لوگوں کو نصیب ہوگی جو ذاتی برتری کی خاطر دنیا میں حکومتوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہیں کرتے جو اس بات سے بے نیاز ہیں کہ ان کی حیثیت کیا ہے ان کا تو کل اپنے رب پر ہوتا ہے وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ یہ ایک جاری و ساری قانون ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انجام کار بہر حال متقین کی فتح ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔پس اس پہلو سے ہمیں تو کسی حکومت میں بھی دلچسپی نہیں ہے ، صرف ایک دلچسپی ہے کہ ساری دنیا میں اللہ کی حکومت قائم ہو جائے۔ہمارا تاج رضوان یار کا تاج ہے، ہماری بادشاہت الہی بادشاہت ہے اور اس معاملہ میں ہمارا رقیب ہی کو ئی نہیں ہم اس میدان میں تنہا ہیں۔دنیا میں جتنے بھی لوگ مذہب کے نام پر کوششیں کرنے والے ہیں آپ ان کی زندگی کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں وہ دراصل محلو چاہتے ہیں، ذاتی بڑائی چاہتے ہیں، کوئی دنیاوی مقصد سامنے رکھ کر مذہب کے نام پر فساد برپا کرتے ہیں ، ان سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں تجزیہ بھی فرما دیا ہے کہ اگر عُلُو چاہو گے تو اس کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کی بھلائی ظاہر نہیں ہو گی خواہ وہ دنیاوی مقصد ہو یا کوئی اور مقصد ، اس کا کوئی بھی نام رکھ لیا جائے لیکن اگر نیتوں میں یہ خواہش ہو کہ ہم دوسروں پر غلبہ پا جائیں اور ان کے امور کی باگ ڈور ہمارے ہاتھ آجائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نیت اس بات کی ضامن ہو جائے گی کہ تم فسادی ہو کیوں کہ عُلُو کی خاطر کوشش کرنے والے بنی