خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 378

خطبات طاہر جلد ۲ 378 خطبہ جمعہ ۱۵ ؍ جولائی ۱۹۸۲ء لوگ کچی نمازیں پڑھتے ہیں وہ جب دکھ محسوس کرتے ہیں تو دیکھ ان پر غالب نہیں آتا ، وہ جزع فزع نہیں کرتے ، ان میں صبر کی بے مثال صفات پائی جاتی ہیں اور جب وہ خیر پاتے ہیں تو یہ نہیں سمجھتے کہ یہ ہمارا حق تھا جو ہمیں ملا ہے۔گویا وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ ہم خیر ہی کے لئے پیدا کئے گئے تھے اس وقت ان کو اپنے ان بھائیوں کا خیال آتا ہے جن کے دکھ میں سے تھوڑ اسا حصہ انہوں نے بھی پایا تھا اور اپنے ان بھائیوں کی تکلیفوں کا بھی احساس ہوتا ہے جو بہت سی بھلائیوں سے محروم ہیں اور کئی قسم کی مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعلُوم ان کے اموال میں غربا کا ایک معلوم اور مقر رحق ہوتا ہے۔اس آیت کی اور بھی کئی تفاسیر ہیں لیکن ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اموال میں حَقٌّ مَّعْلُوم مقرر کر بیٹھتے ہیں۔جب مصیبت ان پر پڑتی ہے تو اس وقت وہ یہ عزم کر چکے ہوتے ہیں کہ آئندہ ہم اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے خیر کا انتظام کریں گے اور خدا تعالیٰ جب ہمیں صبر عطا فرمائے گا تو ہم حق کے طور پر ایک حصہ مقرر کر لیں گے کہ اتنا ضرور اپنے بھائیوں کو عطا کرنا ہے۔فرمایا لِلسَّابِلِ وَالْمُحْرُومِ اور وہ مصیبتوں اور دکھوں سے اتنا عظیم الشان سبق حاصل کرتے ہیں کہ وہ صرف مانگنے والے کو نہیں دیتے بلکہ محروم کو بھی دیتے ہیں۔یعنی ایسے شخص کی بھی مدد کرتے ہیں جو ہے تو محروم لیکن اپنی ضرورت ظاہر نہیں کرتا۔یعنی صرف دنیا کے لحاظ سے محروم نہیں بلکہ اس بات سے بھی محروم ہے کہ سوال کرے، اس میں سوال کرنے کی استطاعت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کی فطرت میں اتنی غیرت رکھی ہے اور اتنی حیا اور شرم رکھ دی ہے کہ وہ سوال کرنے سے بھی محروم رہ جاتا ہے اس لئے جن لوگوں کو مال و دولت عطا کی ہے وہ یہ عزم کرتے ہیں کہ ہم ان لوگوں تک بھی پہنچیں گے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔یہ در اصل عبادت کا پھل ہے لیکن ساتھ ہی ایک چھوٹی سی شرط لگا دی۔فرمایا یہ پھل اس عبادت کا ہے جس کو دوام حاصل ہوتا ہے۔اسی لئے فرمایا الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَابِمُوْنَ یہ نعمت ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے اور یہ غیر معمولی شان اور عظیم الشان صفات حسنہ ان لوگوں کے حصہ میں آتی ہیں جن کی عبادت میں دوام ہوتا ہے عارضی عبادتیں کر کے اللہ سے چھٹی نہیں کر جاتے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دربار میں مستقلاً حاضر ہونے والے لوگ ہیں اور یہ دوام ہی دراصل اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ دوصفات پہلی دوصفات کے برعکس ان کو عطا ہوں۔یعنی جب ان کوثر پہنچے تو وہ مایوس