خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 374
خطبات طاہر جلد ۲ 374 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ء نے وہ دعا کی اور اللہ نے اس شان کے ساتھ قبول کی کہ سارا عرصہ جب ایسی ہوا کے جھونکے ملتے تھے تو سانس اور یہ رحمت کی ہوائیں مجسم حمد باری بن کر ایک دوسرے کے گلے ملا کرتے تھے۔حیرت ہوتی تھی اللہ کی رحمت پر، اسکی بخشش پر، اسکی عطا پر کہ اپنے عاجز بندوں یعنی جماعت احمدیہ سے منسلک بندوں کی کس شان کے ساتھ دعائیں قبول کرتا ہے اور یقین دلاتا ہے۔یہ دراصل ایک پیغام تھا۔پیغام یہ تھا کہ اصل دعائیں جو تم نے کرنی ہیں وہ دعائیں بھی میں تمہاری اسی شان سے قبول کروں گا جیسی یہ ایک ظاہری چھوٹی سی علامت ہے جو میں پوری کر رہا ہوں اس لئے میرے لئے تو یہ بارشیں اور یہ رحمتیں اللہ تعالی کی رحمت کا ایک غیر معمولی پیغام بن کر آئی تھیں۔سارا ہفتہ ایک عجیب کیفیت میں گزار کہ ادھر دعا نکلی ادھر خدا نے یہ پیغام دے دیا کہ میں تمہاری ساری دعائیں سن رہا ہوں اور علامت کے طور پر یہ ظاہری دعا بھی تمہاری قبول کر رہا ہوں تا کہ تم میں سے کسی کو مجھ پر بدظنی نہ ہو، تو اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ جو ہم نے دعائیں کیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ بھی مقبول ہوئیں اور جو اسلام کی فتح کی اور اس کی عظمت کے لئے خدا کے حضور ہم نے گریہ وزاری کی اور آنسو بہائے وہ بھی مقبول ہوئے اور یہی وہ آنسو ہیں جو در اصل لیلتہ القدر کا ترشح ہوا کرتے ہیں۔یہ جولیلۃ القدر کے ساتھ آپ نے ترشح کی باتیں سنی ہیں روحانی دنیا میں بھی ایک ترشح ہوتا ہے۔یہ بندے کے آنسو ہیں جو لیلتہ القدر کا ترشح بن جایا کرتے ہیں۔تو اس لئے بقیہ وقت بھی جہاں دعائیں مزید کریں وہاں خدا کا شکر بھی بہت کریں اور رورو کر یہ عرض کریں اور گریہ وزاری اور منت اور سماجت سے اللہ کی رحمت کے قدم پکڑ کر اور اس سے لپٹ کر یہ دعا کریں کہ اے خدا! ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا تھا لیکن ہمارے دلوں کو یہ یقین ہے کہ یہ تیری رحمت کا نشان تھا اس لئے ہمیں مایوس نہ کرنا اور اس رحمت کے نشان کو ہماری پہلی دعاؤں پر بھی حاوی کر دے اور اگلی دعاؤں پر بھی حاوی فرما دے۔ہم نہیں جانتے کہ ہم میں سے کس کی سنی گئی ،مگر یہ جانتے ہیں کہ تیرے عاجز بندوں کی سنی گئی ہے اس لئے تیرے ہی عاجز بندے جو باقی دعائیں کرتے ہیں ان سب کو بھی قبول فرما۔اللہ تعالیٰ ہمیں مقبول دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔روزنامه الفضل ربوہ ۱۹ / جولائی ۱۹۸۳ء)