خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 372
خطبات طاہر جلد ۲ 372 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ء خواہ ادنی ہو خواہ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو طعے ضرور ملتے ہیں۔بعض دفعہ خدا تعالیٰ اپنے وجود کے حیرت انگیز کرشمے دکھاتا ہے اور اپنی رحمت کے چھوٹے چھوٹے لقمے بھی اور بڑے بڑے لقمے بھی دے دیتا ہے۔خارق عادت معجزے بھی دکھاتا ہے، دستور کو تبدیل کرنے کے معجزے بھی دکھاتا ہے اور دستور کوکسی کا غلام بنا دینے کے معجزے بھی دکھاتا ہے۔ساری کائنات کو کسی وجود کے لئے مسخر کرنے کے معجزے بھی دکھاتا ہے لیکن یہ نہیں کہ سکتے کہ فلاں شخص اتنا کمزور، ذلیل اور حقیر ہے کہ اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔عجیب شان ہے اللہ کی ، کمزور سے کمزور بندے کی بھی وہ بعض دفعہ اس شان سے دعا سنتا ہے کہ اگر اس بندے میں شرم حیا کا مادہ ہو تو ہمیشہ کے لئے خدا کے حضور بچھ جائے۔ایسے بندوں کی بھی سنتا ہے جن کے متعلق جانتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ جب ہم ان کو غم سے نجات دیں گے تو پھر شرک کریں گے، آج خالصتاً مجھے بلا رہے ہیں اور مجھے مدد کے لئے پکار رہے ہیں، جانتا ہوں کہ جب میں ان کو نجات بخشوں گا تو یہ پھر بتوں کے سامنے جھکیں گے، تب بھی میری رحمت اتنی وسیع ہے کہ میں ان کو بخشتا ہوں اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں ، غم سے نجات بخشتا ہوں۔تو دعا کا مضمون تو جاری و ساری ہے لیکن جیسا کہ بعض دعائیں خاص مقام رکھتی ہیں ، بعض دعا کرنے والے خاص مقام رکھتے ہیں، بعض ایام بھی خاص مقام رکھتے ہیں، بعض دن بھی اور بعض راتیں بھی اور لیلتہ القدر والی رات بھی۔میں سارے مفاہیم تو بیان نہیں کر سکتا لیکن ایک عرف عام میں جو مفہوم ہے کہ واقعتا ایک رات ہو۔ایسی رات بھی آتی ہے اور ایسی رات جس کو نصیب ہو جائے اس کا گھر برکتوں سے بھر جاتی ہے، اسکی زندگی ہمیشہ کے لئے سنوار جاتی ہے۔اس رات کو حاصل کرنے کا ذریعہ کون سا ہے ؟ اس کی طرف میں توجہ آپ کو دلانا چاہتا ہوں وہ محمد مصطفی ﷺے ہیں۔یہ وہ سورج ہے یہ وسِرَاجًا مُنِيرًا ہے جس کے ذریعہ لیلۃ القدر وجود میں آئی تھی۔خواہ یہ دائمی لیلتہ القدر اسلام کی قرار دے لیں یا خاص زمانے کی لیلۃ القدر کہہ لیں ، یا زمانہ نبوی کی لیلتہ القدر شمار کریں یا انسانی زندگی کی ایک لیلۃ القدر کہہ لیں ، یا ایک رات شمار کر لیں یا ایک رات کے چند لمحے ، جو مفہوم بھی اس کا ہے یہ سب برکت محمد مصطفی ع کے وجود کے ذریعہ نازل ہوئی۔اس بات میں کوئی شک نہیں اس لئے اس کی برکتیں حاصل کرنے کے لئے درود بہت کثرت سے پڑھنا پڑے گا اور محبت کے ساتھ ذاتی وابستگی کے ساتھ اس کثرت سے درود پڑھیں کہ وہ نور مصطفوی جواند ھیری راتوں کو روشن کیا کرتا ہے ، وہ جواذیت