خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 371 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 371

خطبات طاہر جلد ۲ 371 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ء زندگی انسان دعاؤں کے طفیل ہی زندہ رہتا ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی اگر دعا کا رابطہ انسان سے کٹ جائے تو وہ ایسا جنین بن جاتا ہے جس کا ماں سے رابطہ کٹ گیا ہو جس کی خدا پھر پرواہ نہیں کرتا۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸ ) میں یہی مضمون بیان فرمایا گیا ہے اس لئے اس میں تو شک نہیں کہ دعا تو جاری وساری زندگی کا ایک مستقل حصہ ہے۔اسے انسانی زندگی میں صرف پانی کا مقام یا خوراک کا مقام نہیں ، بلکہ ہوا کا مقام حاصل ہے جو ہر وقت انسان کی زندگی کے لئے ضروری ہے۔پس روحانی زندگی میں دعا کو تو یہ مقام حاصل ہے لیکن بعض خاص دعاؤں کے وقت ہوتے ہیں جب کہ دعا ہر چیز بن جاتی ہے ، غذا بھی ہو جاتی ہے، پانی بھی ہو جاتی ہے، اوڑھنا بچھونا بھی ہو جاتی ہے، انسان کو مادی دنیا سے آزاد بھی کر دیتی ہے۔حقیقت میں دعا ایسے ایسے روپ ڈھال لیتی ہے، ایسی شکلیں اختیار کر لیتی ہے کہ کبھی ظاہری رزق بن کے بھی اللہ کے بندوں پر نازل ہوتی ہے اور ایسے واقعات ہیں کہ جب دعانے روٹی کی شکل اختیار کر لی، جب دعا نے پانی کی شکل اختیار کر لی، جب دعانے پھل کی شکل اختیار کر لی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اپنے بچپن کا ایک واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سیر کے لئے ایک باغ میں جارہے تھے تو ایک ایسے پھلدار درخت پر نظر پڑی جس کے پھل کا وقت نہیں تھا اور اس کی شاخیں سوکھی ہوئی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ٹہل رہے تھے تو بچپن کی ضد کے طور پر آپ نے فرمایا کہ اب مجھے یہ پھل دیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شاخ پر ہاتھ مارا اور وہ تازہ پھل حضرت خلیفہ اسیح الثانی جو اس وقت بچے تھے ان کو عطا فرما دیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ مجھے پتہ نہیں کہ وہ کیسا واقعہ ہوا تھا اور وہ پھل کس طرح آیا تھا لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ بعض دفعہ مومن بندہ کی حرکت بھی دعا بن جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنے والوں کے بھی خاص مقام ہوتے ہیں۔وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَابِ (ص: ۴۱) خدا تعالیٰ بعض بندوں سے متعلق فرماتا ہے کہ ان کا ہمارے ہاں ایک خاص مقام ہے۔وَحُسْنَ مَابِ انہیں قربت اور حسن کا ایک خاص مقام حاصل ہے۔تو دعا کا مضمون تو بہت ہی لمبا اور وسیع ہے اور دعا کر نیوالوں کے حالات بھی مختلف ہوتے ہیں لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ دعا کرنے والا