خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 360
خطبات طاہر جلد ۲ 360 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء کے ساتھ دیئے کہ ہمارا قدم پیچھے نہیں جائے گا، روپیہ کی قیمت کم ہو رہی ہے تو ہمارے لئے کم ہو جماعت کے لئے کیوں کم ہو ، جماعت کو ہم سے زیادہ ضرورتیں ہیں۔یہ تھا جذ بہ جو چندے دینے کے پیچھے کارفرما تھا۔دنیا کی قوموں میں تو روپے کی قیمت کم ہو تو کہتے ہیں ٹیکس معاف کر دو، فلاں چیز معاف کر دو، ہم سے زندہ نہیں رہا جاتا لیکن یہ وہ زندہ قوم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے کہ جتنی روپے کی قیمت کم ہوتی چلی گئی اتنا ہی ان کو یہ خیال آیا کہ سلسلہ کو زیادہ روپے کی ضرورت ہے اس لئے اور زیادہ قربانی کرو۔یہ اضافہ پہلے سے بڑھ کر اور حیرت انگیز ہے۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ پر کامل یقین تھا اور اس پر تو کل تھا لیکن اتنے اضافہ کی توقع نہیں تھی۔پتہ نہیں کہاں سے آیا ہے کس طرح آیا ہے بارش کے قطروں کی طرح گرا ہے اور جب یہ بجٹ Close ہوا ہے (اور ابھی اس میں کچھ رقمیں داخل ہونے والی ہیں ) تو خدا کے فضل سے متوقع بجٹ سے ۴۷لاکھ روپے زیادہ وصولی ہو چکی ہے اور باقی ساری دنیا میں بھی یہی حال ہے جیسا کہ دوست الفضل میں پڑھتے رہتے ہیں۔پس ہم پر شکر واجب ہے یہ مقبولوں کی علامتیں ہیں جو ہم میں ظاہر ہورہی ہیں۔دعا کریں خدا تعالیٰ ان علامتوں میں مزید برکتیں عطا کرتا چلا جائے اور ان کو بڑھاتا چلا جائے۔یہ علامتیں عبادتوں میں بھی اسی طرح برکت پائیں جس طرح مالی قربانیوں میں برکت پارہی ہیں۔وقف کی روح میں بھی اسی طرح برکت پائیں جس طرح مالی قربانی میں برکت پارہی ہیں۔ہماری زندگی کے ہر شعبہ میں یہ علامتیں ظاہر ہو جائیں۔ہمارے ذاتی انفرادی اخلاق میں ظاہر ہو جائیں ، ایک دوسرے سے ہمارے سلوک میں ظاہر ہو جائیں ، اپنی بیویوں سے ہمارے سلوک میں ظاہر ہوں ، بیویوں کے اپنے خاوندوں سے سلوک میں ظاہر ہوں ، بچوں سے سلوک میں ظاہر ہوں، بچوں کے اپنے ماں باپ کے سلوک میں ظاہر ہوں، گویا ہر طرف جتنی جگہ بھی آپ کی زندگی میں کوئی تعلق قائم ہوتا ہے ہر جگہ اللہ کے پیار کی علامتیں آپ کے اندر جلوہ گر ہونی چاہئیں۔اس کو کہتے ہیں خدا میں نہاں ہو جانا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جو فرمایا:۔ے نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں ( در ثمین صفحه ۵۰)