خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 359
خطبات طاہر جلد ۲ 359 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء - بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے باوجود اس کے کہ دنیا میں بڑے مالی بحران آگئے ہیں، باوجوداس کے کہ روپیہ کی قیمت گرنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا دور ہے اور بڑی اقتصادی بدحالی ہے، تنخواہ داروں کا بہت برا حال ہے، تاجروں کی تجارتیں خراب ہو رہی ہیں ، اقتصادی لحاظ سے ہر جگہ ایک بحران ہے لیکن اللہ کی عجیب شان ہے کہ جماعت احمدیہ پر ہر نیا سال پہلے سے زیادہ بڑھ کر فضل لے کر آتا ہے۔گزشتہ مالی سال کے لئے جو بجٹ تیار کیا گیا تھا یعنی کل تک جو سال گزرا ہے اس کا بجٹ اس کے پچھلے سال کے مقابل پر غیر معمولی اضافہ کے ساتھ بنایا گیا تھا اس لئے ناظر صاحب بیت المال آمد بہت گھبرائے ہوئے تھے کہ پتہ نہیں یہ پورا ہوتا ہے یا نہیں اور مالی سال کے آخر پر ہم کوئی بجٹ بھی پیش کر سکیں گے یا نہیں۔علاوہ ازیں جب میں نے یہ اعلان کیا کہ دوست سچائی پر قائم ہو جائیں اور اپنی آمدنیوں کو چھپائیں نہیں۔اگر ان کو پورا چندہ دینے کی توفیق نہیں تو معافی کا میں آج اعلان کر دیتا ہوں بقایا جات بھی معاف ہو جائیں گے ، صرف آپ دیانتداری سے اور تقویٰ کے ساتھ سچ بولیں۔اس اعلان سے تو ناظر صاحب بیت المال اور بھی زیادہ گھبرا گئے اور ایک موقع پر ان کی چٹھی آئی کہ اب آپ کیا سب کو معاف ہی کرتے چلے جائیں گے، بجٹ کیا بنے گا۔میں نے ان سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں۔اللہ پر توکل رکھیں اللہ سچائی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔اصل زندگی سچائی سے عبارت ہے،ساری طاقت سچائی میں ہے اور ساری نیکیوں کی جان سچائی میں ہے۔ابرار بننا ہے تب بھی سچائی سے یہ سفر شروع کرنا پڑے گا اور مسلسل سچائی کو اپنے ساتھ رکھنا پڑے گا۔ایک قدم بھی سچائی کے بغیر اٹھا کر آپ روحانی لحاظ سے زندہ نہیں رہ سکتے۔بہر حال جتنے خطوط آئے جتنی چٹھیاں آئیں ہم سب کو معاف کرتے چلے گئے اور کہا کہ اگر دوستوں کو چندہ دینے کی توفیق نہیں بے شک نہ دیں لیکن سچ بولیں ، خدا نے ان کو جو کچھ عطا فرمایا ہے اس کو کم کر کے نہ دکھا ئیں نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سال کے آمد کے بجٹ کے مقابل پر ( جو اس سے پچھلے سال سے بہت زیادہ تھا ) ۴۷ لاکھ روپے زیادہ وصول ہوئے ہیں۔میری روح خدا کے حضور سجدے کر رہی ہے۔لاکھوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان ان گنت جذبات خلوص کی بنا پر جو ان لاکھوں کے پیچھے کام کر رہے ہیں۔بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر دوستوں نے یہ چندے دیئے ہوں گے، بڑی قربانیاں کر کے یہ چندے دیئے ، غریبوں نے بھی دیئے امیروں نے بھی دیئے اور اس عزم