خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 358
خطبات طاہر جلد ۲ 358 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء تیری تعظیم کریں اور ذوالجبروت تیری تعظیم کریں تو لازم ہے کہ قبولیت کی ان علامتوں کی طرف دوڑ اور بڑی تیزی کے ساتھ ان علامتوں کو اپنے وجود میں جاری کرلے جو اللہ کے پیاروں اور اس کے محبوبوں کی علامتیں ہوا کرتی ہیں۔یہ کام ہم کر دیں تو ساری دنیا میں اسلام کی فتح کے کام اللہ کرے گا، ہماری ساری مشکلیں دور ہو جائیں گی ، سارے مصائب ٹل جائیں گے، ہر غم خوشی اور راحت میں تبدیل ہو جائے گا اور ہر خوف امن میں بدل جائے گا۔پس اس رمضان کو ان علامتوں کے حصول کا رمضان بنالیں۔ہمارے چھوٹے اور ہمارے بڑے، ہمارے بچے اور ہمارے بوڑھے ، ہماری عورتیں اور ہمارے مردسب کے سب خدا سے گریہ وزاری کریں کہ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيَّا يُنَادِى لِلْإِيْمَانِ اے ہمارے رب ! ہمارا تو اتنا ہی قصور ہے کہ ہم نے ایک پکارنے والے کی پکار کو سنا جو تیری طرف بلا رہا تھا اور ہم ایمان لے آئے۔خدا فرماتا ہے کہ ایمان لانے کے اس چھوٹے سے فعل کا نتیجہ اب یہ نکالو، میں عطا کرنے پر آیا ہوں اور میں عطا کرتا چلا جاؤں گا، میں یہ نہیں پوچھوں گا کہ یہ کون سی اتنی بڑی نیکی تھی جو تم نے کی کہ میں سب کچھ تمہیں دے دوں، خود دعا سکھا دی۔فرمایا تم صرف اتنا کہو کہ اے خدا! ہم ایمان لے آئے ہیں بس اب تو ہمارے پرانے گناہ معاف فرما، ہماری بدیاں دور کرتا چلا جا، اس وقت ہم پر موت نہ آئے جب تک ہم نیک نہ ہو جائیں اور وہ سارے وعدے ہمارے حق میں پورے فرمادے جو گزشتہ نبیوں سے تو کرتا چلا آیا ہے۔اس کے بعد میں مختصر اسال رواں کے مالی گوشوارہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔مقبولوں کی علامتوں میں سے ایک مالی قربانی بھی ہے خصوصاً اس دور میں جو مادیت کا دور ہے ، مادہ پرستی کا دور ہے جس میں انسان آسانی سے اپنی کمائی سے الگ نہیں ہو سکتا۔خالصہ اللہ یعنی اللہ کی رضا کی خاطر اگر ایک دمڑی بھی پیش کی جائے تو اس کی بھی بہت بڑی قیمت ہے۔میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ جماعت کو دن بدن قبولیت کی علامتیں عطا فرما تا چلا جا رہا ہے اور پہلے سے بڑھاتا چلا جارہا ہے۔یہ علامتیں تو ہمیشہ سے جماعت میں ہیں لیکن وہ جماعت بڑی خوش نصیب ہوتی ہے جوان علامتوں میں کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جائے۔پس جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے ساری دنیا میں بالکل صاف نظر آ رہا ہے کہ جماعت