خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 357 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 357

خطبات طاہر جلد ۲ 357 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تحت کہ لوگ مریں گے نہیں جب تک نیک نہ ہو جائیں۔اللہ فرماتا ہے پہلے ان لوگوں میں تم داخل ہو جاؤ پھر تم اس فتح کے لائق قرار دیئے جاؤ گے جو میرے محبوب بندہ محمد مصطفی ملے کی فتح ہے اور جس کے متعلق میں پرانے نبیوں سے وعدہ کرتا چلا آیا ہوں کہ وہ فتح ضرور عطا ہوگی۔پس یہ وہ مضمون ہے اَلَا اِنَّ اَولِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کا جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے میری توجہ پھیری کہ زبانی دعوئی کوئی چیز نہیں ہے ، یہ کہنا کہ ہاں ہم خداوالے ہو گئے ہیں ہم پر کوئی ہاتھ تو ڈال کر دیکھے یہ محض دعویٰ ہے، خدا والے بنتے ہو تو تمہارے اندر خدا والوں کی علامتیں ظاہر ہونی چاہئیں اور یہ وہ علامتیں ہیں جن کا میں نے قرآن کریم کی رو سے ذکر کیا ہے۔قرآن کریم کی اس آیت کے تابع یہ علامتیں لازماً خدا والوں میں جاری ہونی شروع ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ ابرار بن جاتے ہیں جس کا دوسرا نام اولیاء اللہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی مضمون کو بہت ہی پیارے انداز میں اپنے نہایت ہی پیارے اور محبوب کلام میں یوں بیان فرماتے ہیں: مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں“ کیسا عارفانہ کلام ہے۔وہ وجود جو صاحب تجربہ ہو، جو ان چیزوں میں سے گزرا ہوصرف اسی کے منہ سے یہ کلمے جاری ہو سکتے ہیں۔دنیا کے عام مولوی کو یہ علم نصیب ہی نہیں ہوسکتا۔عارف باللہ کا کلام ہے۔فرمایا کہ خدا ضرور مدد کرتا ہے، میں بھی دعوے کرتا ہوں کہ مجھ پر ہاتھ تو ڈال کر دیکھو، میں خدا کا شیر ہوں ، کس کو جرات ہے، کس کی مجال ہے کہ مجھ پر ہاتھ ڈال سکے ، لیکن کیوں دعویٰ کرتا ہوں اس لئے کہ اس یقین پر قائم ہوں کہ یہ محض فرضی دعوے نہیں ہیں۔فرماتے ہیں: ”خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور انجام کاران کی تعظیم ملوک اور ذوی الجبروت کرتے ہیں“ تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۸۹) کتنا عظیم الشان کلام ہے۔اللہ کے پیاروں میں قبولیت کی ایسی علامتیں پائی جاتی ہیں کہ ان کی تعظیم ملوک اور ذوالجبروت کرتے ہیں اور ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔پس اے احمدی ! اگر تو سلامتی کا شہزادہ بنا چاہتا ہے ، اگر تو چاہتا ہے کہ آسمان سے ملوک