خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 349
خطبات طاہر جلد ۲ 349 خطبہ جمعہ ۲۴ / جون ۱۹۸۳ء پس ایسے مقابلے کے لئے ہم تیار ہیں۔ہم ان قوموں میں سے نہیں ہیں جو بزدل ہوتی ہیں اور مقابلے سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ہم ہر چیلنج کا جواب دیں گے (انشاء اللہ ) اور ہر حملہ کا سامنا کریں گے لیکن ہمارے ہتھیار اور ہیں اور حق کے مخالفوں کے ہتھیار اور ہیں۔ان کا طرز کلام اور ہے اور ہمارا طرز کلام اور ہے۔ان کی محن مختلف ہے اور ہماری طحن مختلف ہے۔وہ عناد اور بغض کی آگ جلانے کے لئے نکلیں گے تو ہم محبت کے آنسوؤں سے اس آگ کو بجھائیں گے۔وہ دنیا کے تیر چلا کر ہماری چھاتیوں کو بر مائیں گے اور ہم راتوں کو اٹھ کر گریہ وزاری کے ساتھ دعاؤں کے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے۔پس اے احمدی ! اس رمضان کو فیصلہ کن رمضان بنا دو، اس الہی جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ مگر تمہارے لئے کوئی دنیا کا ہتھیار نہیں ہے۔دنیا کے تیروں کا مقابلہ تم نے دعاؤں کے تیروں سے کرنا ہے۔یہ لڑائی فیصلہ کن ہوگی لیکن گلیوں اور بازاروں میں نہیں صحنوں اور میدانوں میں نہیں بلکہ مسجدوں میں اس لڑائی کا فیصلہ ہونے والا ہے۔راتوں کو اٹھ کر اپنی عبادت کے میدانوں کو گرم کرو اور اس زور سے اپنے خدا کے حضور آہ و بکا کرو کہ آسمان پر عرش کے کنگرے بھی ہلنے لگیں مَتَى نَصْرُ اللهِ کا شور بلند کر دو۔خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوئے اپنے سینوں کے زخم پیش کرو، اپنے چاک گریبان اپنے رب کو دکھاؤ اور کہو کہ اے خدا! قوم کے ظلم سے تنگ آ کے مرے پیارے آج شور محشر ترے کوچہ میں مچا یا ہم نے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر ۵ صفحه ۲۲۴) پس اس زور کا شور مچاؤ اور اس قوت کے ساتھ متى نَصْرُ اللهِ کی آواز بلند کرو کہ آسمان سے فضل اور رحمت کے دروازے کھلنے لگیں اور ہر دروازے سے یہ آواز آئے: أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيب (البقره: ۲۱۵) سنوسنو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔اے سننے والو! سنو کہ خدا کی مدد قریب ہے۔اے مجھے پکارنے والوسنو کہ خدا کی مدد قریب ہے اور وہ پہنچنے والی ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۹ / جون ۱۹۸۳ء)