خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 342
خطبات طاہر جلد ۲ 342 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۳ء نتیجے میں حزن پیدا ہوتا ہے ، وہ اس نقصان میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں حزن پیدا ہوتا ہے۔پس خوف کا تعلق مستقبل سے ہے۔یعنی آئندہ ایسے واقعات رونما ہونے کا خطرہ ہو جن کے نتیجے میں انسان کو نقصان پہنچے لیکن حزن کا تعلق ماضی سے ہے اس کے ماضی میں ایک ایسا خوف ہوتا ہے جو واقعۂ حقیقت اختیار کر چکا ہوتا ہے۔پس وہ خوف جوا بھی حقیقت اختیار نہ کر چکا ہو وہ حزن میں تبدیل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ حقیقت نہ بن جائے۔حزن کا تعلق لا زم ماضی کے واقعات سے ہے۔کچھ خوف حقیقی ثابت ہوئے وہ واقعہ نقصان کا موجب بن گئے ان کے نتیجے میں جو نقصان پہنچا اس سے حزن پیدا ہوتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشا ہوتا کہ خوف کے حالات ہی پیدا نہیں ہوں گے تو حزن کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ایسا خوف جو خیالی اور فرضی ہو، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو وہ کبھی بھی حزن پیدا نہیں کر سکتا۔وہ خوف ہی رہے گا یا امن میں خود بخود تبدیل ہو جائے گا۔پس جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ تو حزن نے بتا دیا کہ کچھ خوف لا ز ما حزن کی وجہ پیدا کریں گے اس کے باوجود وہ حزن محسوس نہیں کریں گے۔اس کا فلسفہ سمجھنا ہو تو اس کا راز اولیاء اللہ کے الفاظ میں ہے۔دوستی اور محبت اور عشق کی حقیقت کو پا کر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ خدا تعالی کیا بیان فرما رہا ہے؟ دوستی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ایک دوست کی یہ تمنا، خواہش اور بے قراری ہوتی ہے کہ میں سب کچھ اپنے دوست پر قربان کر دوں اور جب وہ قربان کرتا ہے تو غم محسوس نہیں کرتا بلکہ لذت پاتا ہے۔جب وہ اپنے دوست کی خاطر واقعہ اپنی کسی پیاری چیز سے جدا ہوتا ہے تو واویلا نہیں کرتا بلکہ ایک عجیب روحانی لذت محسوس کرتا ہے کہ میں نے کسی مقصد کی خاطر یہ چیز قربان کی ہے اور وہ مقصد مجھے اس چیز کے مقابل پر زیادہ پیارا ہے۔بعض دفعہ تو وہ یہ تمنا کرتا ہے کہ میں اپنی جان بھی دوست پر نچھاور کر دوں۔چنانچہ قرآن کریم میں ایسے اولیاء اللہ کا ذکر بکثرت ملتا ہے جو خدا کی خاطر اپنے اموال اور اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے نہ صرف تیار رہتے تھے بلکہ دلوں میں تمنائیں پالا کرتے تھے۔فرماتا ہے: فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ( الاحزاب :۲۴) کہ ایک خوف کے بعد دوسرے خوف کے حالات پیدا ہوتے چلے جارہے ہیں۔ہر خوف کو