خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 335

خطبات طاہر جلد ۲ 335 خطبہ جمعہ ۷ ارجون ۱۹۸۳ء جائیں تو اس سے اس کو زیادہ دکھ پہنچتا ہے۔وہ کہتا ہے تمہیں کس نے کہا تھا کہ مجھے نعمتیں عطا کرو اور میں ان کی عادت ڈالوں جن کے بغیر مجھ سے رہا نہ جائے۔پہلے تو جس طرح بھی ہو سکتا تھا گزارہ چل رہا تھا۔پس رمضان المبارک کے بارہ میں یہ تصور بڑا ہی بھیانک اور بڑا ہی جاہلانہ ہے کہ ایک طرف تو ایسا مبارک مہینہ انسان کی زندگی میں داخل ہو کر انسان کی ساری طاقتوں پر فرشتوں کے پہرے بٹھادے اور شیطان کے لئے ساری راہیں بند کر دے اور اپنے رب کے لئے اور اللہ کے فرشتوں کے لئے ساری راہیں کھول دے اور دوسری طرف جب یہ مہینہ جائے تو اس حالت میں جائے کہ فرشتوں کی بجائے ہر راہ پر شیطان کے پہرے بیٹھے ہوں اور وہاں اللہ تعالیٰ کا داخلہ بند ہو اور شیطان کے لئے کھل کھیلنے کا موقع ہو اور یہ حالت اس ایک مہینہ کے بدلہ پھر گیارہ مہینے تک جاری رہے۔یہ بڑے نقصان کا سودا ہے۔اللہ اور اللہ کے رسول کی ہرگز یہ مراد نہیں۔رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس مہینے کی عبادتوں کو استقلال بخشیں۔اس مہینہ میں جو کچھ برکتیں پائی ہیں انکو دوام عطا کریں۔جن مصیبتوں سے نجات پائی ہے پھر دوبارہ ان بندھنوں میں نہ جکڑے جائیں۔ان گندگیوں کی طرف پھر منہ نہ کریں جن گندگیوں سے رمضان شریف نے آپ کو نجات دلائی۔اس ضمن میں ایک اور بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ رمضان ہمارے لئے ایک بہت بڑی اور خاص نعمت بن کر آیا ہے کیونکہ یہ وہ دور ہے جس میں احمدیت کے دشمنوں نے اپنے غیظ و غضب کے سارے دروازے ہماری طرف کھول دیئے ہیں۔یہ وہ دور ہے جن میں احمدیت کے معاندین ایک پرامن ملک میں کھلے بندوں یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ احمدیوں کے خلیفہ کو بھی قتل کر دو اور ذلیل و رسوا کر کے ٹکڑے اڑا کر پھینک دو اور اس جماعت کا ایک فرد بھی زندہ باقی نہ رہنے دو، اس ملک میں خون کی ندیاں بہا دو یہاں تک کہ ایک احمدی بھی دیکھنے کو نہ ملے۔یہ تعلیم کھلم کھلا دی جارہی ہے۔اس موقع پر رمضان المبارک ہمارے لئے اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھولنے کے لئے آیا ہے۔رمضان ہمارے لئے یہ پیغام لے کر آیا ہے کہ پہلے بھی خدادعائیں سنا کرتا تھا لیکن اب تو اور بھی تمہارے قریب آگیا ہے وہ تم پر رحمت کے ساتھ جھک رہا ہے۔دعائیں سننے کے سارے دروازے کھل چکے ہیں۔تمہاری ہر آہ و پکار آسمان تک پہنچے گی۔کوئی ایسی آواز نہیں ہوگی جو تمہارے دل سے اٹھے اور اللہ کے عرش کو ہلا نہ رہی ہو۔