خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 334

خطبات طاہر جلد ۲ 334 خطبہ جمعہ ۱۷/جون ۱۹۸۳ء برکت کے نتیجہ میں اپنے وجود میں جب رمضان کو داخل کر لے تو اپنا سب کچھ خدا کے لئے کھول دے اور شیطان کے لئے بند کر دے۔ایسی صورت میں ابواب رحمت یعنی اللہ کے فضلوں کے دروازے کھل جاتے ہیں جو سات کے مقابل پر ( عدداً بطور کامل عدد کے بے شک کہہ دیں لیکن عملاً بے انتہا ہیں ، ان کی گنتی نہیں ہو سکتی ، ان کا شمار نہیں ہوسکتا۔گویا جب مومن اپنا جہان خدا کے حضور پیش کر دیتا ہے تو اللہ کا جہان ہر طرف اس پر رحمتیں برسانے لگتا ہے۔یہ ہے آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کا مطلب جو آنحضور علیہ نے رمضان کی برکات سے ہمیں آگاہ کرنے کے لئے ارشاد فرمائی ہے۔پس یہ احمدیوں کے لئے بہت ہی مبارک مہینہ ہے اس لئے ہر احمدی کو چاہئے کہ اپنے ساتوں رستے اللہ کی رضا کے تابع کر کے اپنے سارے قومی خدا کی مرضی کے لئے اس طرح وقف کر دے کہ شیطان کو ان میں سے کسی پر دخل نہ رہے۔یہ ایک مہینہ کی ایک ایسی مسلسل ریاضت ہے جس کے نتیجہ میں انسان جب رمضان سے باہر نکلے گا تو ایک بالکل مختلف کیفیت کے ساتھ ، بالکل مختلف شخصیت لے کر باہر نکلے گا۔اللہ تعالیٰ اس کو پورا ایک مہینہ اس ریاضت میں رکھے گا یہاں تک کہ وہ کوئی رستہ ایسا نہیں رہنے دے گا جس کے ذریعہ شیطان نفس میں داخل ہوسکتا ہو۔تا ہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے بعد انسان پھر یہ سارے دروازے شیطان پر کھول دے اور اللہ پر بند کر دے۔اس سے بڑی جہالت اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ انسان یہ سمجھ لے کہ رمضان عارضی نیکیاں لے کر آتا ہے اور پھر اپنے ساتھ ہی نیکیوں کو سمیٹ کر واپس لے جاتا ہے۔ایسے رمضان کا کیا فائدہ جو نعمتیں دے کر واپس چھین لے اور دکھ دور کرنے کے بعد پھر عائد کر دے۔اس سے پہلے جس انسان نے نعمتیں دیکھی نہیں تھیں اس کو ان نعمتوں کی عادت ڈال کر پھر واپس لے جائے۔وہ شخص جو مصیبتوں کا عادی ہو چکا تھا، دنیاکے مصائب کے چنگل میں پھنسا ہوا کسی نہ کسی طرح سسک سسک کر گزارہ کر رہا تھا، رمضان آیا اور ان مصیبتوں سے اسے نجات دلائی اور تمام نفسانی بندھنوں سے اسے آزاد کیا اور جاتی دفعہ پھر وہ بندھن دوبارہ ڈال گیا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ دکھوں میں مبتلا ہو جائے گا۔جس نے آزادی نہ دیکھی ہو اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو اس کو اتنی تکلیف نہیں ہوتی۔جتنی ایک دفعہ آزادی ملنے کے بعد پھر اس کو دوبارہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے جانے سے ہوتی ہے۔ظاہر ہے ایک شخص جو نعمتوں سے محروم ہوتا ہے اور کسی نہ کسی طرح گزارہ کر رہا ہوتا ہے اگر اس کو نعمتیں عطا کر دی جائیں اور پھر اس سے چھین لی