خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 28

خطبات طاہر جلد ۲ 28 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء خوب اچھی طرح سمجھ لے کہ طیب طیب ہی رہتا ہے اور اسکی فضیلت اپنی جگہ قائم رہتی ہے ، وہی عزت کے لائق ہے اور خبیث چیز کثرت کے باوجو د خبیث رہتی ہے بلکہ اور زیادہ گھناؤنی بن جاتی ہے کیونکہ گند بڑھتا ہے تو اور زیادہ مکروہ ہوتا چلا جاتا ہے۔تو اس سے تمہیں بہت سے سبق ملیں گے اور نصیحت کو بہتر رنگ میں قبول کرنے کے اہل ہو جاؤ گے۔اور یہ امر واقعہ ہے کہ انسان کا نفس خود اس بات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ کسی شخص میں اکیلے رہنے کے باوجود ایک اعلیٰ قدر کو پکڑنے کی اہلیت موجود ہے یا نہیں۔اور بعض دفعہ انسان کی طبیعت پر اس کا اتنا گہرا اثر پڑتا ہے کہ ایک چھوٹا سا واقعہ اس کی ساری زندگی پر حاوی ہو جاتا ہے۔انگریزوں کے ساتھ جب افغانستان کی لڑائیاں لڑی جا رہی تھیں، ۱۸۵۵ء میں جب انگریزوں کی فوج کو افغانوں نے مختلف طریق سے مثلاً جنگی چالیں چل کر اور کہیں حکمت عملی سے کام لے کر نہ صرف شکست دی بلکہ گلیه تباہ و برباد کر دیا، اس وقت انگریزوں کی فوج کے جو جرنیل اور چند آدمی بچے ان کی داستان لکھتے ہوئے وہ جرنیل لکھتا ہے کہ ہم سے دھو کے پر دھو کہ ہور ہا تھا، عہد شکنی پر عہد شکنی ہو رہی تھی یہاں تک کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ساری قوم میں سوائے بد عہدی اور عہد شکنی کے اور کوئی بات باقی نہیں رہی۔وہ ایک واقعہ لکھتا ہے اور کہتا ہے ایک دفعہ ہمیں کہا گیا کہ آؤ خوانین بیٹھے ہیں اور صلح کا معاہدہ ہو گا اور اپنے چوٹی کے آدمی ساتھ لے لو۔یہ خودان میں شامل تھا لیکن اس کے ایک بہت ہی پرانے دوست خان نے اس کو بڑی حکمت کے ساتھ پناہ دے دی اس لئے بچ گیا۔کہتا ہے اس وقت ہزار ہا کا مجمع وہاں کھڑا تھا اور لوگ قتل و غارت کر رہے تھے۔کہتا ہے اس سارے مجمع میں ایک ایسی آواز بلند ہوئی جس نے ہمیشہ کے لئے میری زندگی پر اثر ڈال دیا ہے اور میں کبھی اس آواز کو فراموش نہیں کر سکتا۔ایک شخص خدا کا خوف رکھنے والا ایسا تھا جس نے قطعا پر اوہ نہیں کی کہ لوگ مجھے کیا کہیں گے۔اس نے بلند آواز سے کہا اے لوگو! خدا کا خوف کرو اور تقویٰ اختیار کرو اور اپنے عہدوں کو پورا کرو اور بد عہدیاں نہ کرو تم کس طرف جا رہے ہو۔کہتا ہے اس ایک آواز نے میرے دل میں اس قوم کی عزت قائم کر دی کہ ایسے حالات میں بھی ایسے ایسے نیک دل اور پاک لوگ موجود ہیں جن کے اندر عظمت کر دار پائی جاتی ہے۔حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب کے متعلق ابھی چند سال ہوئے ایک بڑی