خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 329
خطبات طاہر جلد ۲ 329 خطبه جمعه ۱۰ جون ۱۹۸۳ء باتیں نہیں کرتا بلکہ سلام کہتا ہے إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلَمًا (الفرقان : ۲۴) پس ایسا مومن جس کی عام شان یہ ہوا گا عام شان یہ ہوا کر وہ روزے دار واگر وہ روزے دار بھی ہو تو تکرار سے : ہو تو تکرار سے بتائے کہ او بے وقوفو! تم مجھ سے کیا توقع رکھ رہے ہو؟ کیا تمہاری اشتعال انگیزی سے میں مشتعل ہو جاؤں گا؟ ہرگز نہیں میں تو عام حالات میں بھی سلام ہی کہا کرتا تھا۔ اب تو میں روزے دار ہوں ، روزے دار ہوں ممکن نہیں ہے کہ تم مجھ سے بے صبری کا مظاہرہ دیکھو۔ پس جہاں کچھ بد قسمت اپنے روزوں کو ضائع کر رہے ہوں گے وہاں آپ کے لئے اور بھی زیادہ ثواب کا موقع ہوگا ۔ آپ صبر اور حوصلے اور ہمت اور دعاؤں کے ساتھ اس رمضان کو گزاریں پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کے کیسے فضل آپ پر نازل ہوتے ہیں ۔ مِنْ قَبْلِكُمْ یعنی وہ لوگ جنہوں نے روزے ضائع کر دیئے ان کی مثال میں بائیل سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ حضرت یسعیاہ کی یہ نصیحت بائیبل میں درج ہے کہ : وو دیکھو تم اس مقصد سے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا رگڑا کرو اور شرارت کے مکے مارو۔ پس اب تم اس طرح کا روزہ نہیں رکھتے ہو کہ تمہاری آواز عالم بالا پر سنی جائے ۔ (یسعیاہ باب ۵۸ آیت:۴) یعنی ایسے بد بخت انسان ہو کہ کوئی وقت تھا کہ تم روزوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے رحم کو جذب کیا کرتے تھے اور بنی نوع انسان کے حقوق ادا کیا کرتے تھے اور جھگڑوں سے روکا کرتے تھے۔ اب یہی رمضان آتا ہے تو تمہیں اور زیادہ اشتعال انگیزیوں پر مجبور کر دیتا ہے۔ تم طیش میں آکر مکے مارتے ہو اور کہتے ہو ہم دیکھیں گے کہ ہمارے ظلم سے اور ہمارے ستم اور استبداد سے کون بیچ کے نکلے گا ؟ عام حالات میں بھی ہم بڑے جابر تھے ۔ اب تو رمضان کی سختیاں آگئی ہیں ۔ اب تو روزے آگئے ہیں۔ اب دیکھیں گے کون ہم سے بچ کے نکلتا ہے۔ حضرت یسعیاہ یہود سے فرماتے ہیں کہ تم یہ حرکتیں کر رہے ہو۔ گویا یہود کی جو حالت گزرچکی ہے اور جس کے ایک پہلو کی طرف قرآن کریم مِنْ قَبْلِكُمْ میں اشارہ کرتا ہے، بائیبل میں یہ اس کی تفصیل ہے کہ: ”دیکھو تم اس مقصد سے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا رگڑا کرو اور شرارت