خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 324
خطبات طاہر جلد ۲ 324 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۳ء چھینک آجائے تو وہ سمجھتے ہیں روزہ چھوڑ دینا چاہئے۔ان کی طبیعت ذرا اداس ہو جائے تو وہ سمجھتے ہیں بیمار ہو گئے ہیں، روزہ چھوڑ دینا چاہئے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ چھوڑ دینے کی جو اجازت ہے وہ تمہارے لئے نقصان کا سودا ہے فائدے کا سودا نہیں ہے۔تمہاری مجبوریوں کو پیش نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ نے روزہ چھوڑنے کی اجازت دی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو روزہ رکھتا ہے وہ اس آدمی کی نسبت بہت بہتر ہے جو مجبور اروزہ چھوڑتا ہے اس لئے عقل سے کام لینا اور اپنے فائدے کے خلاف کوئی فعل نہ کرنا۔اپنے نفس کے خلاف فیصلہ نہ کر دینا کہ بظاہر تم آسانی میں پڑرہے ہولیکن حقیقت میں بہت بڑا گھاٹا کھا رہے ہو۔وقت کی رعایت سے اس وقت میں درمیانی حصے کو ترک کر رہا ہوں اور آخری حصہ جو مدعا اور مقصود اور مطلوب ہے روزوں کا اس کو بیان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ کہ جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ میں کہاں ہوں اور مجھے کیسے پایا جاسکتا ہے ؟ فَإِنِّي قَرِيب تو تیرے جواب دینے سے پہلے ہم ان کو بتا رہے ہیں کہ میں ان کے قریب ہوں۔یہ نہیں فرمایا کہ اے رسول! تو ان سے کہہ دے کہ میں قریب ہوں بلکہ فرمایا میں خود کہتا ہوں کہ میں قریب ہوں أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ میں ان کی دعوت کا جواب دیتا ہوں ، ان کی پکار کوسنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں لیکن یہ یکطرفہ راستہ نہیں ہے۔وہ یہ نہ سمجھیں گویا اللہ تعالیٰ ان کا نوکر بن گیا ہے کہ وہ حکم دیتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ منظور کرتا چلا جائے گا۔فرمایا یہ تعلق کا دو طرفہ رستہ ہے۔فَلْيَسْتَجِوانِى وه میری باتوں کا بھی جواب دیا کریں اور ان کے فوائد کی خاطر جو صیحتیں میں ان کو کرتا ہوں ان پر عمل کیا کریں ، تب یہ رشتہ چلے گا اور یہ صیحتیں وہ ہیں جو اس سے پہلے روزے کے متعلق کی جاچکی ہیں۔الغرض روزے کا اللہ تعالیٰ خود جواب ہے وہ خود اس کا پھل ہے اور اسی پھل کی طرف مذکورہ بالا آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔فرمایا اگر تم مجھے ڈھونڈتے ہو تو روزے کی عبادت اختیار کرو یہ کامل عبادت ہے۔اس عبادت کے بعد تم سب سے اعلیٰ جنتیں حاصل کر لو گے اور وہ میری رضا کی جنتیں ہیں۔دنیا میں کوئی عبادت بھی ایسی متصور نہیں ہو سکتی جو ساری عبادتوں کی جامع ہو سوائے روزے کے۔اس میں ہر چیز آجاتی ہے۔بدنی، جسمانی، جذباتی ، روحانی غرض عبادت کا کوئی پہلو ایسا نہیں