خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 323

خطبات طاہر جلد ۲ 323 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۳ء یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس غریب کو تو ایک روٹی اور پیاز کافی ہے اس لئے میں ایک روٹی اور پیاز دے دوں گا اور میرا فدیہ پورا ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ اس کی اجازت نہیں دیتا۔سکھ تو نہ بانٹا گیا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے سکھوں میں غریبوں کو شریک کرو اگر تم اپنے لئے اعلی نعمتیں استعمال کرو اور نہایت اونچی قسم کے کھانے کھاؤ تو فدیہ تب ہوگا جب غریبوں کو بھی ویسا ہی کھانا کھلاؤ تا کہ ان کو بھی اندازہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کیا کیا نعمتیں دی ہوئی ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ شریک کریں۔سارا سال نہ سہی ایک مہینہ ہی وہ تمہارے ساتھ شریک ہو جائیں۔پس بہت سے جو مصالح ہیں ان میں سے یہ ایک دو مصالح ہیں جن کا وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ میں ذکر ہے۔فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ند یہ ان پر فرض ہو گا جو روزہ نہیں رکھ سکتے۔عَلَى الَّذِيْن میں جو فرض کے معنی پائے جاتے ہیں ان کا تعلق يُطيقُونَہ کے منفی معنوں کے ساتھ ہے۔مراد یہ ہے کہ ایسے اشخاص جو روزے کی طاقت سے مستقلاً محروم ہو چکے ہیں ان کو لازماً فدیہ دے کر روزے کا حق ادا کرنے کا ایک اور طریق اختیار کرنا چاہئے اور یہ ان پر لازم ہے جن کے اندر فدیہ دینے کی طاقت ہے۔اگر اتنا غریب ہے کہ اپنے لئے بھی کھانا میسر نہیں تو اس کو اللہ تعالیٰ مستغنی فرما دیتا ہے۔اس آیت میں یہ دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں۔اب فرمایا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے بندوں میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جو بعد میں روزہ رکھ بھی سکتے ہوں تب بھی ان کو بے قراری ہوگی کہ ہم کیوں محروم رہ رہے ہیں۔فرمایا فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ایسی اطاعت کی روح رکھنے والے جو اطاعت کی روح میں درجہ کمال رکھتے ہیں، خدمت کے کاموں میں پیش پیش ہیں اور دین کے کاموں میں آگے بڑھنے والے ہیں، اگر وہ اپنی طرف سے فدیہ دینا چاہیں تو ان کے لئے منع تو نہیں ہے۔قطع نظر اس کے کہ وہ روزے کی طاقت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔جب وہ روزہ چھوڑیں تو فدیہ دیں۔اس طرح ہم ان کو اس لذت میں شریک کر لیتے ہیں فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ اور یہ بتا دیتے ہیں کہ یہ ان کے لئے بہتر ہوگا یعنی ساتھ فدیے کا طوعی نظام بھی جاری فرما دیا۔وَان تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ یہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو جھنجھوڑا ہے۔بہت سے بیمار ایسے ہیں جو دل کے بھی بیمار ہوتے ہیں۔بہت سے بیمار ایسے ہوتے ہیں جو جسم سے زیادہ روح کے بیمار ہوتے ہیں ان کو روزہ چھوڑنے کا بہانہ چاہئے۔ان کو