خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 312

خطبات طاہر جلد ۲ 312 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۳ء پس حضرت ابراہیم علیہ السلام جب محو گفتگو تھے اور دشمن نہایت ہی لغو اور بے معنی دلائل سامنے پیش کر رہا تھا اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہلاتی سقیم میں تو تمہاری باتوں سے بیمار ہوا جاتا ہوں یا تمہارے غم میں بیمار ہوا جاتا ہوں تم کیوں ہلاک ہو رہے ہو اور کیوں پاگلوں والی باتیں کرتے ہو۔چنانچہ اس اظہار کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جھوٹ کے طور پر پیش کیا گیا کہ گویا آپ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں بیمار ہو گیا ہوں مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ۔چنانچہ اس پر وہ ابراہیم کو اپنے بتوں کے پاس چھوڑ کر چلے گئے جو یہ کہتا تھا کہ میں بتوں کو توڑ دوں گا۔وہ لوگ بھی عجیب احمق تھے کہ دھو کے میں آگئے ، بحث تو یہ ہو رہی ہے کہ اچھا جب میرا داؤ لگے گا میں بتوں کو توڑ دوں گا اور اچانک کہتا ہے میں بیمار ہو گیا ہوں۔ان کا جواب تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ بیمار ہو گئے ہو تو گھر جا کے بیٹھو یہاں بت خانے میں کیا کر رہے ہو۔لیکن مفسرین کہتے ہیں کہ نہیں، انہوں نے کہا اچھا اگر بیمار ہو گئے ہو تو پھر اسی بت خانے میں لیٹ جاؤ۔چنانچہ وہ چلے گئے تو انہوں نے پیچھے سے بت توڑ دیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عظیم احسانات میں سے ایک یہ احسان بھی ہے کہ آپ نے تمام انبیاء کی عصمت کو دوبارہ ثابت کیا اور وہ تمام الزامات جو کلام حکیم پر لگائے گئے تھے اور خدا کے مقدس انبیاء پر لگائے گئے تھے ان کو یک قلم چاک فرما دیا اور اپنے غلاموں کو ایسی سوچ عطا کی کہ جس کے نتیجہ میں کلام حکیم ایک نئی شان کے ساتھ ہم پر جلوہ گر ہوا اور انبیاء علیہم السلام کی قوت قدسیہ ہم پر خوب اچھی طرح روشن ہوئی اور ہم نے پہچان لیا کہ اللہ کے بندے جن کو خدا نبوت کے لئے چنا کرتا ہے وہ ہر قسم کے عیوب سے پاک ہوتے ہیں ہر قسم کی خوبیاں ان کو عطا کی جاتی ہیں۔ان کی مثالیں ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کے لئے ہمیشہ پیش کی جاتی ہیں اس لئے نہیں کہ ان کی برائیاں گنوا کر ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں ذلیل و خوار کرے۔ایسا الٹ مضمون جب پیش کیا جاتا تھا تو ہمیشہ دشمن نے اس سے فائدہ اٹھا یا۔چنانچہ مستشرقین نے سب سے زیادہ اعتراضات کلام حکیم اور انبیاء پر انہی مفسرین کے کندھوں پر بندوقیں رکھ کر چلاتے ہوئے کئے ہیں۔ہر مستشرق کا اعتراض جب آپ اٹھا کر دیکھتے ہیں آپ کا دل خون ہو رہا ہوتا ہے۔لیکن اس کے ہاتھ میں ہتھیار کیا ہیں۔وہ یہی ہیں کہ آپ کے فلاں مفسر نے یہ لکھا ہے۔آپ کے فلاں مفسر نے یہ لکھا ہے اور آپ کے فلاں مفسر نے یہ لکھا ہے ، ان مفسرین سے پوچھو جو