خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 311
خطبات طاہر جلد ۲ 311 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۳ء دماغوں کو مسموم کرنے کے لئے پڑھائی جارہی ہے اور کوئی اس کی باز پرس نہیں کر رہا۔خدا تعالیٰ نے تو بات ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تو حید کے مسئلہ پر باپ کے ساتھ جھگڑے سے شروع کی تھی یہ بتانے کی خاطر کہ تم دھوکے میں نہ پڑ جانا یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرز استدلال تھی۔یعنی دشمن کے کلام کو جھوٹا کرنے کے لئے استعمال کرنا۔یہ استدلال کی ایک طرز ہوا کرتی ہے۔جس طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الكَرِيمُ (الدخان:۵۰) ہاں چکھ اب اس سزا کو تو تو عزیز بھی ہے اور کریم بھی ہے۔تو کیا نعوذ بالله من ذالک خدا تعالیٰ نے جھوٹ بولا کہ دشمن کو، ذلیل وخوار بندہ کو جس کو جہنم میں ڈال رہا ہے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تو عزیز ہے اور کریم ہے ، بڑا غالب ہے اور بڑی عزت والا ہے۔اگر وہاں سے جھوٹ کا نتیجہ نکلتا ہے یا شرک نکلتا ہے تو یہاں سے بھی نکلنا چاہئے۔یہ ایک طرز کلام ہے استدلال کا ایک انداز ہے کہ دشمن کی بات اسی کے منہ سے بیان کی جائے اور پھر اس کو غلط ثابت کر دیا جائے اور جھوٹا ثابت کر دیا جائے۔پس یہاں بھی یہی مراد تھی لیکن یہیں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایک جھوٹ کا بہتان بھی باندھ دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس گفتگو کے دوران جب اس نتیجہ پر پہنچے کہ میں ان لوگوں کو ذلیل کرنے کی خاطر ان کے بت تو ڑوں تو انہوں نے ایک موقع پر جواب دیا اِنّى اني سقيم (الصافات:۹۰) میں تو بیمار ہوں اور دراصل یہ جھوٹ تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام بیما کوئی نہیں تھے۔ان کی نیت یہ تھی کہ یہ لوگ چلے جائیں تو پھر میں ان کے بتوں کو تو ڑ دوں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق جوانی سقیم کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کو بہانہ بنا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام پر جھوٹ کا بھی الزام لگا دیا گیا حالانکہ واقعہ یہ ہے سقیم کا لفظ مختلف معانی میں محاورتاً استعمال ہوتا ہے جس طرح مثلاً انگریزی میں کہتے ہیں I am sick of you میں تم سے بیمار ہو گیا ہوں، میں تھک گیا ہوں، میں بے زار ہوں۔غرض کسی سے انتہائی بے زاری کے اظہار پر لفظ بیمار استعمال کیا جاتا ہے اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ تم نے تو مجھے بیمار کر دیا ہے۔تم ایسے لغو دلائل پیش کر رہے ہو اور ایسی بے عقلی کی باتیں کر رہے ہو کہ تم نے تو گویا مجھے بیمار کر دیا، مجھے لاچار کر کے رکھ دیا ہے، میرے اعصاب تو ڑ دیئے ہیں۔یہ بھی ایک طرز بیان ہے۔