خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 310
خطبات طاہر جلد ۲ 310 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۳ء چہرہ ہمیشہ اپنے رب ہی کی طرف وقف رکھوں گا جس نے زمین آسمان کو اور ان سب چیزوں کو پیدا کیا۔حنیفا ہمیشہ اس کی طرف جھکا رہوں گا، وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اور مجھے تم کبھی کسی حالت میں بھی شرک کرنے والا نہیں پاؤ گے۔یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کامل کو جس شان سے پیش کیا ہے اس کو الٹاتے ہوئے بعض مفسرین نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا شرک انہی آیات سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ان کی عقل کی حالت حیرت انگیز ہے کہ جب شرک منسوب کیا تو فوراد ماغ میں خیال آیا کہ نعوذ بالله من ذلک قرآن کریم ایسی لغو بات کیسے کر سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام روزانہ ستاروں کو دیکھتے تھے ، چڑھتے ہوئے بھی اور ڈوبتے ہوئے بھی ،۔چاند کو چڑھتا دیکھتے تھے اور ڈوبتا دیکھتے تھے ، سورج ہر روز طلوع ہوتا تھا اور غروب ہو جایا کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ یہ کیا بات کر رہا ہے کہ اچانک ایک دن ستاروں کو انہوں نے خدا بنا لیا جو ہر روز ڈوب جایا کرتے تھے۔کیا اس دن پہلی دفعہ انہوں نے ستاروں کو ڈوبتا ہوا دیکھا تھا۔کیا پہلی مرتبہ علم ہوا تھا کہ چاند غروب ہو جایا کرتا ہے اور سورج بھی ڈوب جاتا ہے۔اس کا حل سنئیے۔اس کا حل مفسرین نے یہ نہیں نکالا کہ لازماً یہ نتیجہ غلط ہے اور یہی حل ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے نبی کی طرف کوئی لغو فعل یا لغو کلام منسوب نہیں ہو سکتا اس لئے یہ نتیجہ غلط ہے۔چنانچہ یہ نتیجہ نکالنے کی بجائے انہوں نے ایک کہانی بنائی جو ہمارے ملک کے بعض علاقوں میں رائج بچوں کی کتابوں میں انبیاء کی جو کہانیاں ہیں ان میں یہ کہانی درج ہے۔بچوں کو اچھی طرح ذہن نشین کرانے کی خاطر کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو تو حید کے علمبردار اور توحید کے شہزادہ تھے دراصل وہ بھی نعوذ باللہ بڑے مشرک تھے اور یہ توجیہہ پیش کی گئی ہے کہ دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کے متعلق بچپن سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ نبی بنے والا ہے اور بچپن سے ہی خطرہ تھا کہ اس نے بڑے ہو کر ہمارے خداؤں کے خلاف اعلان کرنا ہے۔لہذا ان کے چچانے ان کو ایک اندھیری غار میں قید رکھا اور جب تک بالغ نہیں ہوئے انہوں نے نہ سورج دیکھا نہ چاند اور نہ ستارے کلیۂ اندھیرے میں پرورش پائی۔جس دن غار سے پتھر ہٹا کر ان کو باہر نکالا گیا رات کا وقت تھا پہلے ستاروں پر نظر پڑ گئی رب کی تلاش میں بیٹھے ہوئے تھے انتظار کر رہے تھے۔کہا اچھا پھر یہی رب ہوگا۔(تفسیر ابن جریر طبری زیر آیت فلما جن علیہ الیل را کو کیا۔الدر المنشور زیر آیت هذا ) ایسی لغو اور بے ہودہ کہانی بچپن سے لوگوں کے