خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 306 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 306

خطبات طاہر جلد ۲ 306 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۳ء اور پھر فرمایا: شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ) وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَالَمْ يُنَزِّلُ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَنَّا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ الَّذِينَ آمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوا إيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَك لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ وَتِلْكَ حُجَّتُنَا أَتَيْنَهَا إبْرُ هِيْمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَتٍ مر : نَشَاءُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ (الانعام: ۷۵-۸۴) قرآن کریم نے مختلف انبیاء کو مختلف صفات حسنہ سے متصف دکھایا ہے اور وہ تمام صفات حسنہ جو مختلف انبیاء میں نمایاں شان کے ساتھ نظر آتی ہیں وہ تمام کی تمام بلکہ ان سے شان میں بہت بڑھ کر آنحضرت ﷺ کے مبارک وجود میں جمع ہو گئیں۔قرآن کریم کا یہ اسلوب بیان اور طریق حکمت ہے جس کے ساتھ اس نے ان تمام خوبیوں کو جو انبیاء میں ورق ورق پھیلی پڑی تھیں ان کو مجموعی رنگ میں آنحضرت ﷺ کی ذات میں اکٹھا کر دیا ہے اور سب انبیاء سے آپ کو ہرشان میں بڑھ کر دکھاتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی جو خوبیاں قرآن کریم نے نمایاں طور پر پیش کیں ان میں ایک آپ کی سچائی تھی۔فرمایا ان كَانَ صِدِّيقًا نَبِيَّان (مریم:۴۲) وہ بہت ہی سچ بولنے والا اور جھوٹ سے بہت متنفر انسان تھا۔آپ کی دوسری خوبی توحید کے ساتھ عشق دکھائی گئی یعنی ایسا کامل موحد ، شرک سے ایسا بیزار کہ کبھی کسی صورت میں بھی جان ، مال ، عزت کی پرواہ نہ کی اور بے دھڑک ہر چیز خدا کی توحید کی خاطر داؤ پر لگا دی، نہ اپنوں سے خوف کھایا نہ غیروں سے، نہ ماں باپ کا احترام حائل ہوا۔غرض توحید کے مقابل پر ہر دوسری قدر کو حقیر اور ذلیل سمجھا اور خالصہ اللہ ہو گئے اور واقعہ حقیقت پر قائم ہوتے ہوئے فرمایا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ کہ دیکھو! میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔میری طبیعت میں ہی شرک داخل نہیں ہے۔میں توحید کے ساتھ عشق کے ایسے بندھن میں باندھا گیا ہوں اور میرے خمیر میں اللہ تعالیٰ کی توحید کچھ اس طرح رکھ دی گئی ہے اور میری گھٹی میں اللہ کی محبت پلا دی گئی ہے کہ شرک سے کبھی کسی مقام پر اور کسی منزل پر میرا کوئی علاقہ اور