خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 302
خطبات طاہر جلد ۲ 302 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۳ء کے ساتھ ہوا کرتی ہیں اور یہ دلائل مختلف شکلیں بناتے ہیں اور مختلف قوموں کے سامنے مختلف صورتوں میں آتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ متنبہ کرنا چاہتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لینا کہ چونکہ دلائل ہمارے ساتھ ہیں اس لئے دلائل کے زور پر ہم فتح پا جائیں گے۔جن قوموں سے تمہارا مقابلہ ہے ان میں ایسی بھی ہیں جو دلائل کو نہیں مانیں گی۔وہ دلائل کے میدان میں جتنی زیادہ شکست کھا ئیں گی اتنا زیادہ ان کا غصہ بڑھتا چلا جائے گا۔پس محض دلائل کے برتے پر تم اس دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے۔تمہیں لازماً میری طرف جھکنا پڑے گا اور مجھ سے تعلق بڑھانا پڑے گا کیونکہ ایسا وقت آنے والا ہے کہ تمہارے سارے دلائل بے کار چلے جائیں گے اور تمہیں بچا نہیں سکیں گے بلکہ برعکس نتیجہ پیدا کر دیں گے۔تمہارے دلائل دلوں کو نرم کرنے کی بجائے انہیں اور زیادہ سخت کر دیں گے۔احساس خفت انتقام میں تبدیل ہو جائے گا۔تب صرف میں ہوں جو تمہیں بچا سکتا ہوں اس لئے دلائل پر انحصار نہیں کرنا، ہمیشہ میری ذات پر انحصار کرنا ہے، میری طرف جھکنا ہے، مجھے سے تعلق جوڑنا ہے۔پس اس راز کو کسی احمدی کو کبھی نہیں بھلانا چاہئے۔آج ہمارا مختلف زمانوں سے مقابلہ ہے، کسی ایک زمانے سے مقابلہ نہیں ہے۔ایسی قومیں بھی آج دنیا میں آباد ہیں جن کے عقائد ان لوگوں جیسے ہیں جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے مقابلہ کیا تھا ، ایسی قومیں بھی آباد ہیں جن کے عقائد ان لوگوں جیسے ہیں جنہوں نے حضرت نوح علیہ السلام سے مقابلہ کیا تھا، ایسی قو میں بھی ہیں جن کے اعمال حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے اعمال کی طرح ہو گئے ہیں اور ایسی قو میں بھی ہیں جن کے اعمال لوط کی قوم کے اعمال کی طرح ہو گئے ہیں۔پس وقت آگیا ہے کہ قرآن کریم کی یہ پیشگوئی پوری ہو وَ إِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ (المرسلت : ۱۳) کیونکہ آج سب نبیوں کی تو میں ہمیں مختلف خطہ ہائے ارض پر پھیلی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔عقائد کے لحاظ سے بھی وہ سارے باطل عقائد آج دنیا میں موجود ہیں جو مختلف انبیاء کے زمانے میں پیدا ہوتے رہے اور اعمال کے لحاظ سے بھی وہ سارے بد اعمال آج دنیا میں موجود ہیں جو مختلف انبیاء کے زمانے میں قوموں کو گندگی سے بھر دیتے رہے۔پس جماعت احمدیہ کا مقابلہ نہ کسی ایک قوم سے ہے نہ کسی ایک زمانے سے، ہم وہ ہیں جن کے اس زمانے کے امام کے متعلق فرمایا گیا: