خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 23
خطبات طاہر جلد ۲ 23 23 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء پیش کرتے ہو۔کیا پاگلوں اور بے وقوفوں والی بات ہے۔اس خدا سے عذرات پیش کر کے اپنے افعال کا دفاع کیا جا رہا ہے جو تخلیق آدم سے پہلے بھی انسان سے واقف تھا اور جنین کی ہر تبدیلی سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ اس ماں کے پیٹ میں کن کن بد خیالات کے اثرات مجتمع ہورہے ہیں ، کن کن نیک خیالات کے اثرات مجتمع ہور ہے ہیں اور کس قسم کا بچہ پیدا ہونے والا ہے۔پس بے معنی باتیں کرتے ہو۔فرمایا فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ میرے سامنے اپنے آپ کونیک نہ بنایا کرو۔هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیک کون ہے اور صحیح معنوں میں اس سے ڈرنے والا کون ہے۔اس ایک آیت میں سارے عذرات کا قلع قمع کر دیا گیا ہے اور انسان کو کیسا انکسار سکھا دیا اور اس کی حیثیت بتادی کہ اس سے آگے بڑھ بڑھ کر تم باتیں نہ کیا کرو۔نصیحت قبول کرنی ہے تو اپنے اندر عجز اور انکساری پیدا کر واپنے دفاع کی عادت نہ ڈالو اور جان لو کہ خدا تعالیٰ کے سامنے تمہاری کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔جب انانیت کا یہ داغ دور ہو جاتا ہے اور کاٹا جاتا ہے (اگر دوسرے داغ نہ ہوں ) تو پھر ایسا انسان اللہ تعالیٰ کا رنگ پکڑنے کا اہل ہو جاتا ہے۔پس کیسی حکمت کے ساتھ ایک داغ کو دور فرمایا اور اس آیت نے اس کا ادنیٰ سے ادنی نشان بھی باقی نہیں رہنے دیا۔پھر فرماتا ہے مادہ پرستی اور عقوبت سے بے نیازی کی سوچ بھی انسان کے نصیحت پکڑنے کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے یعنی نصیحت اور انسان کے درمیان یہ باتیں حائل ہو جاتی ہیں۔جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے، جب خدا کا رسول انہیں نیکیوں کی طرف بلاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: وَقَالُوْا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ وَمَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ (الجاثیه: ۲۵) وہ کہتے ہیں ہمیں تو سوائے اس حیات دنیا کے اور کچھ نظر نہیں آتا نَمُوتُ وَنَحْيَا اس دنیا میں ہم جیتے بھی ہیں اور مر بھی جاتے ہیں تم ہمیں کیوں ایسی باتوں کی طرف بلاتے ہو جن کے اثرات موت کے بعد ظاہر ہو سکتے ہیں۔اگر موت کے بعد کی کوئی زندگی ہو تو تم کیسی یہ باتیں کرتے ہو کہ خدا زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے حالانکہ مَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ہمیں تو صرف زمانہ ہی