خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 277
خطبات طاہر جلد ۲ 277 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۳ء کو خدا کے فیصلے سے بچا سکے۔اور ابھی آپ یہ جواب دے ہی رہے تھے کہ ایک ایسی موج اٹھی جس نے آپ کے بیٹے کو نظر سے غائب کر دیا اور پھر اس کو دوبارہ نہیں دیکھا گیا کیونکہ وہ غرق ہونے والوں میں سے ہو گیا۔پس یہ واقعہ ہونے والا تھا جس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو خطاب کرنے سے منع فرما دیا۔اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس وقت تک حضرت نوح نے کلام نہیں کیا جب تک کہ یہ سارا طوفان گزرنہیں گیا۔بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ادھر یہ واقعہ ہوا ادھر حضرت نوح نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اے خدا! تو نے اس کو ہلاک کر دیا حالانکہ یہ تو میرا بیٹا تھا لیکن یہ بات ہرگز درست نہیں چنانچہ فرماتا ہے وَقِيلَ يَاَرْضُ ابْلَعِى مَاءَكِ وَلِسَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءِ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِي وَقِيلَ بُعْدَ اللْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (بود ۳۵) کہ خدا نے زمین کو حکم دیا کہ وہ اپنا پانی جذب کرلے اور آسمان کو فرمایا کہ وہ تھم جائے۔پھر پانی نیچے ہوا اور اس کے بعد کشتی پہاڑ کی چوٹی پر جالگی۔اس کے بعد حضرت نوح کے خدا سے کلام کا ذکر ہے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس سارے عرصے میں حضرت نوح کو اپنے بیٹے کے مرنے کا دکھ ضرور تھا لیکن اس کی موت کا استناد کھ نہیں جتنا اس تعجب کی بنا پر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا کہ تیرے اہل کو میں نجات بخشوں گا پھر یہ کیا واقعہ ہو گیا ؟ پس در اصل یہ دکھ نہیں تھا کہ میرا بیٹا کیوں ہلاک ہوا بلکہ یہ دکھ تھا کہ میری پیشگوئی کیوں پوری نہیں ہوئی۔خدا کا کلام جو مجھ سے ہوا تھا میں نے اس کو سمجھنے میں غلطی کی ہے یا یہ کیا واقعہ ہوا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو واضح خبر دی تھی کہ میں تیری اولاد کو بچالوں گا اور میرا بیٹا تو میری اولادتھی پھر وہ میری نظروں کے سامنے دیکھتے دیکھتے کیوں ہلاک ہو گیا۔لیکن یہ عرض اس وقت کی جب یہ سارا معاملہ گزر گیا۔ورنہ اس وقت تو انبیاء کی شان کے خلاف ہے کہ اشارہ یا کنایی بھی ایسا کلام منہ پر لائیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے کلام پر کسی معنی میں بھی کوئی حرف آئے۔پس حضرت نوح علیہ السلام نے بڑی خاموشی اور صبر کے ساتھ بیٹے کی ہلاکت کو برداشت کیا اور کوئی لفظ منہ پر نہیں لائے اور جب پوچھا ہے تو یہ نہیں کہا کہ بیٹا کیوں مرا ہے اس کو تو زندہ رہنا چاہئے تھا بلکہ یہ عرض کی کہ اے خدا ! وہ تو میری اولاد تھی۔وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ (هود: ۴۶) اور تیرا وعدہ بھی سچا ہے۔پھر یہ کیا معمہ ہو گیا اور یہ کیا واقعہ ہو گیا کہ تیرے وعدے کے باوجود بیٹا ہلاک ہو گیا؟ اس لئے