خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 276
خطبات طاہر جلد ۲ 276 خطبه جمعه ۳ ارمئی ۱۹۸۳ء قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ وَقِيلَ يَاَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيُسَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءِ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِي وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَنَادَى نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَكِمِينَ قَالَ يُنُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْلُنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهلِينَ (هود: ۴۲ - ۴۷) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت نوح نے کہا کہ اس کشتی میں سوار ہو جاؤ۔یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو فرمایا کہ اس کشتی میں سوار ہو جاؤ۔بِسمِ اللهِ مَجْرِبَهَا وَمُرْسَهَا یہ کہتے ہوئے کہ اللہ ہی کے سپرد ہے، اسی کے نام کے ساتھ اس کا جاری ہونا اور اس کا بلند ہونا۔اِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ میرا رب تو بہت بخشش کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور یہ ایسی کشتی تھی جو پہاڑوں کی طرح بلند موجوں پر سوار تھی اور وہ موجیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھیں۔اچا نک نوح نے کیا دیکھا کہ اس کا بیٹا ایک ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں قریب تھا کہ موجیں اس کو جالیتیں۔آپ نے اسے دیکھ کر بے قراری سے آواز دی اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں سے نہ ہو۔نوح کے بیٹے نے جواب دیا میں تو پہاڑ پر پناہ لے لوں گا۔یہ طوفان کیا چیز ہے۔ایک سے ایک بلند پہاڑ میرے سامنے ہے۔جوں جوں موجیں بڑھتی چلی جائیں گی میں بھی بلند تر ہوتا جاؤں گا۔معلوم ہوتا ہے وہ ایسا علاقہ تھا جس کے اردگرد پہاڑ بھی تھے اور ایک کے بعد دوسری بلند چوٹی تھی۔جب یہ واقعہ ہوا اس وقت نسبتاً مچلی جگہ پہ تھے۔بہر حال جب حضرت نوح نے بیٹے کو پکارا تو اس نے جواب دیا یہاں تو پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔میں ایک کے بعد دوسرے پہاڑ کی طرف رجوع کرتا چلا جاؤں گا۔قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللهِ الَّا مَنْ رَّحِمَ حضرت نوح نے جواب دیا۔اے میرے بیٹے ! آج اللہ کے عذاب سے کوئی پناہ نہیں اگر ہے تو اس کشتی میں ہے اس کے سوا آج روئے زمین پر کوئی جگہ نہیں جو کسی انسان