خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 275

خطبات طاہر جلد ۲ 275 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۳ء إِنَّ اِبْراهِيمَ لَعَلِيْمُ أَوَاهُ مُنِيْب ( بور ) کہہ کر آپ کی تعریف بھی کر دی اور آپ کی بڑی ہی دلجوئی فرمائی۔اس کے برعکس حضرت نوح علیہ السلام کو اجازت ہی نہیں ملی کہ وہ اپنی قوم کے متعلق کوئی ذکر بھی کر سکیں۔اس میں کیا حکمت تھی؟ اگر آپ غور کریں تو اس میں آپ کو بہت ہی گہرا اور بہت ہی عظیم الشان سبق نظر آئے گا۔ایک ایسا سبق جو انسانیت کے مقام کو بہت بلند اور ارفع کر دیتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جس قوم کے لئے دعا کر رہے تھے اس کا آپ سے کوئی بھی رشتہ نہیں تھا۔آپ کی اولاد میں سے کوئی ایک فرد بھی اس قوم میں شامل نہیں تھا جس کے لئے آپ بے قرار تھے، جس کو بچانے کے لئے آپ ترساں ولرزاں تھے اور عاجزانہ دعائیں کر رہے تھے۔لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے جس قوم کے لئے دعا کرنی تھی اس میں ان کے بیٹے نے بھی شامل ہونا تھا۔اس لئے اس لطیف بات میں یہ بھی ایک انذار کا پہلو تھا کہ نوح کو اس لئے منع کیا جارہا ہے کہ انبیاء کی شان کے خلاف ہے کہ انکے ترحم میں نفس کی ادنی سی ملونی بھی شامل ہو۔اللہ تعالیٰ دشمنوں کے لئے بھی دعائیں کرنے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن چونکہ نبی کا اپنا بیٹا شامل ہو گیا ہے اس لئے فرمایا کہ اب تیرا یہ مقام نہیں رہا کہ تو اس کے لئے دعا کرے۔اب اگر تو دعا کرے گا تو ہو سکتا ہے کہ کہنے والا یہ کہے اور سوچنے والا آئندہ یہ سوچے کہ نوح نے اس لئے دعا کی تھی کہ آپ کا اپنا بیٹا بھی شامل تھا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نوح! میں تجھ پر یہ داغ نہیں لگنے دینا چاہتا۔تمام انبیاء کو دعا کی اجازت دوں گا لیکن تجھے یہ اجازت نہیں دوں گا کیوں کہ تیرے اپنے خون کا حصہ بھی ان لوگوں میں شامل ہو گیا ہے جن پر عذاب آنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حضرت نوح علیہ السلام کو دعا سے منع فرمانا جس غرض سے تھا اس کو کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسمِ اللهِ مَجْرَبَهَا وَ مُرْسُهَا إِنَّ رَبِّ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ وَهِيَ تَجْرِى بِهِمُ فِى مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ تُيْنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكَفِرِينَ قَالَ سَاوِى إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ