خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد ۲ 274 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۳ء گے تو یہ نیچے اترے گی لیکن ایسا کوئی طوفان نہیں جو اس کشتی کو ڈبونے کے لئے پیدا کیا گیا ہو۔لیکن شرط یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کی بنائی ہوئی کشتی ہے، اسے انسانی ہاتھوں سے ناپاک اور گندہ نہ کریں۔آيت وَاصْعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنًا۔۔۔۔کادوسرا پہلو جو خاص طور پر توجہ کا مستحق ہے ، وہ ہے وَلَا تُخَاطِنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ کہ اے نوح! ظالم لوگوں کے متعلق مجھ سے خطاب نہ کر۔حالانکہ دوسرے انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کے لئے دعا کرنے سے منع نہیں فرمایا۔نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منع فرمایا نہ ہی حضرت لوط علیہ السلام کو۔دعا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ تو کہا کہ اب اس بات کو چھوڑ دو لیکن یہ اور طرح کا منع کرنا ہے۔یہ تو فرمایا کہ ہم تمہیں خبر دے رہے ہیں لیکن یہ نہیں فرمایا کہ دعا کرنے کی اجازت نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق تو یہاں تک فرمایا يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ (ہود: ۷۵ ) کہ وہ ہمارے ساتھ جھگڑ رہا تھا۔اب یہ جھگڑ نا بڑے پیار کا اظہار ہے۔یہ مراد نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم ہو چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو نا پسند نہیں کرتا اور پھر بھی وہ اصرار کر رہے تھے کہ خدا قوم لوط کو بچالے۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اشارہ یا کنایہ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو دعا سے منع نہیں فرمایا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خدا کی نگاہ میں جو مقام تھا اس کی وجہ سے یہ ناممکن تھا کہ آپ خدا کی طرف سے اشارہ پانے کے بعد کسی قسم کی گفتگو فرماتے۔پس اللہ تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو محبت اور پیار کے ساتھ مجادلے کا موقع دینا ایک بہت بڑی بات ہے۔چنانچہ آپ نے قوم لوط کو ہلاکت سے بچانے کے سلسلہ میں خوب زور لگایا اور اللہ تعالیٰ نے بھی زور لگانے دیا کہ یہ دلیلیں بھی نکا لو، وہ دلیلیں بھی نکالو۔اس قوم کو بچانے کے لئے جو بھی جو از تمہارے ذہن میں آسکتا ہے وہ پیش کر لو اور ہم تمہیں بتاتے چلے جائیں گے کہ یہ جواز بھی درست نہیں ، وہ جواز بھی درست نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابراہیم ! اس قوم کو بچانے کی اگر ایک بھی وجہ جواز ہوتی تو ہم اسے بچا لیتے۔پھر منع بھی کیسے پیار سے فرمایا۔یا بر هیم أَعْرِضْ عَنْ هَذَا إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ (ہود: ۷۷) کہ اے ابراہیم! اب بس کر، جانے بھی دے، چھوڑ اس قصے کو اللہ کا حکم تو آبھی چکا ہے۔سر پہ آ کھڑا ہے جس کو ٹالنے کی تو کوشش کر رہا ہے۔اب دیر ہو چکی ہے، اب وقت نہیں رہا کیونکہ ہماری تقدیر ظاہر ہوگئی ہے۔کیسا عظیم الشان پیار کا اظہار ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اور آپ کی دعاؤں کو بھی کتنے پیار سے رد کیا ہے۔ساتھ ہی