خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 262
خطبات طاہر جلد ۲ 262 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۳ء نہیں ٹکرار ہے اور ان کا اندرونی نظام بھی ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھ رہا ہے اور ان کا بیرونی نظام بھی ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھ رہا ہے۔یہ اتنا حیرت انگیز واقعہ ہے کہ اربوں ارب روشنی کے سالوں پر آسمان موجود ہوں پھر بھی ان میں مطابقت ہے۔یہ تو ان کو علم نہیں تھا کہ اتنے فاصلے پر ہیں لیکن فاصلوں کے جتنے بھی ان کے علم تھے اس کے مقابل پر یہی نسبت بنتی تھی۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر چہ اس زمانہ کے انسان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ فاصلے روشنی کے سالوں میں بھی ناپے جاسکتے ہیں لیکن ان کی اپنی رفتار میں بڑی ست تھیں۔ان کے زمانے گھوڑوں اور بیلوں اور گڑوں کے زمانے تھے اور ان کے اپنے فاصلوں کے تصور اتنے محدود تھے کہ اس کے مقابل پر آسمان کی وسعتیں ان کے دل پر وہی ہیبت طاری کرتی تھیں جو آج کے انسان کے دل پر اربوں سالوں کے اندر نا پے جانے والے فاصلے ہیبت طاری کرتے ہیں۔اس لئے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ قرآن کریم کی بات کا ان پر اثر نہیں تھا یا ان کو علم نہیں تھا۔اپنے اپنے علم کے مطابق انسان ہمیشہ کا ئنات سے حیرت زدہ ہی رہا ہے۔پس اس فطری تقاضے کو ابھارتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حیرت میں مبتلا کیا۔فرمایا زمین و آسمان میں اتنے فاصلے ہیں اور آسمانوں کے درمیان آپس میں کتنے فاصلے ہیں اس کے باوجود یہ ایک منضبط نظام ہے، طباقا ہے، ایک دوسرے سے بھی مطابقت رکھتا ہے اور اندرونی طور پر بھی مطابقت رکھتا ہے۔پھر فرمایا وَ جَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًان اور دیکھو! چاند کونور کا ذریعہ بنایا جواثر کو قبول کرتا ہے، روشنی کو قبول کرتا ہے اور پھر آگے پھیلاتا ہے اور سورج کو ایسی روشنی عطا کی جو براہ راست دوسروں کو بھی روشن کر سکتا ہے۔واللهُ أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتَالُ ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَ يُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًان اور اس نے تمہیں زمین سے اس طرح نکالا کہ پرورش دیتا ہوا ادنیٰ سے اعلیٰ حالتوں کی طرف منتقل کر دیا۔زمین سے پیدا ہوئے اور آسمانوں سے باتیں کرنے لگے ، یعنی آسمان کی وسعتوں کی طرف توجہ دلا کر انسان کو اس کا منتہا یا کرا دیا کہ تم جو زمین سے پیدا ہوئے ہوزمین کے کیڑے بننے کے لئے بازمین سے چپکے رہنے کے لئے نہیں پیدا کئے گئے بلکہ ہم نے تمہیں اس طور سے پیدا کیا ہے کہ دن بدن تم زمین سے اٹھتے چلے جارہے ہو اور رفعتیں اختیار کرتے چلے جارہے ہو اور اگر تم اسی طرح ترقی کو جاری رکھو گے تو تمہارا آخری منتہا آسمان کی وسعتیں ہیں لیکن کچھ ایسے ہوں