خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 260
خطبات طاہر جلد ۲ 260 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۳ء میرے اللہ میں نے تو بلند آواز سے بھی اس قوم کو اپنی طرف بلایا ہے ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنْتُ لَهُمْ پھر کھلی کھلی مجالس میں بھی تبلیغ کی ہے وَاَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًا اور چھپ کر بھی کی ہے۔یہ بہت ہی حکمت کی بات ہے۔بسا اوقات ایک انسان کھلی مجلس میں بات سنتا ہے اور اثر قبول کر بھی لیتا ہے لیکن ایسے انسان بھی پائے جاتے ہیں کہ کھلی مجالس میں بات سننے سے گھبراتے ہیں۔ان کے اندر بنیادی طور پر بزدلی پائی جاتی ہے اور مجلس میں اگر ان سے بات کریں تو وہ اثر قبول کرنے سے بھی انکار کر دیتے ہیں تا کہ دیکھنے والے یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم متاثر ہو گئے۔ایسے لوگوں سے الگ بات کرنی پڑتی ہے، علیحدگی میں سمجھانا پڑتا ہے۔چونکہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ تبلیغ کے لئے حکمت ضروری ہے تو معلوم ہوتا ہے حضرت نوح علیہ السلام نے حکمت کا کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑا۔کہیں کھلی مجالس میں بھی باتیں کیں تا کہ قوم کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ بزدل نہیں ہیں، یہ ڈرنے والے نہیں ہیں، یہ کھلے بندوں بات سب کے سامنے کرتے ہیں، کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتے ، کوئی بات چھپا کے نہیں رکھتے اور مخالف کو خوب موقع دیتے ہیں کہ وہ بھی اپنی بات کرے۔یہ أَعْلَنْتُ لَهُمْ کا فائدہ ہے لیکن پھر بھی کچھ ایسے کمزور لوگ تھے جن کو علیحدگی میں تبلیغ کرنی پڑتی تھی۔وہ بھی حضرت نوح علیہ السلام نے کی اور پھر ان سے کہا فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّ كَانَ غَفَّاران اور پھر میں نے ان کو حرص بھی دلائی لالچ بھی دی۔کیونکہ بہت سے لوگ خوف سے نہیں مانتے اور لالچ سے مان جاتے ہیں۔ان کو میں نے کہا کہ دیکھو! تمہارے گناہ بہت سہی لیکن میرے رب کی رحمت بہت ہی زیادہ وسیع ہے، تم اس سے مایوس نہ ہو۔استغفار کرو، میرا رب تو بے حد بخشنے والا رب ہے۔جس خدا کی طرف میں بلا رہا ہوں وہ تو مغفرت کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔غفار کے معنے حد سے زیادہ بخشش کرنے والے کے ہوتے ہیں۔اگر تم اس سے معافی مانگو گے تو تمہارے گناہوں کے باوجود تم پر رحمتیں برسانی شروع کر دے گا تُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًان وہ رحمت کے بادل بھیجے گا جوتم پر موسلادھار بارشیں برسائیں گے۔وہ بارشیں تمہارے لئے رزق میں اضافہ کریں گی ، وہ برکتیں لے کر آئیں گی ہلاکتیں لے کر نہیں آئیں گی کیونکہ نتیجہ یہ نکلا و يُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ ایسی رحمتوں اور برکتوں کی بارشیں آئیں گی کہ تمہارے اموال میں بھی برکت ڈال دیں گی تمہاری اولا دوں میں بھی برکت ڈال دیں گی۔یعنی موسم صحت کے لئے بھی اچھا ہو جائے گا۔ایسا موسم نہیں ہوگا کہ جس میں فصلیں بھی تباہ