خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 259

خطبات طاہر جلد ۲ 259 خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۸۳ء لیا۔قوم کو ہلاکت سے بچانے کے لئے میں نے دن کو بھی تبلیغ کی اور رات کو بھی تبلیغ کی فَلَمْ يَزِدْهُمُ دُعَاءِى إِلَّا فِرَارًا مگر جتنا جتنا میں ان کو بلاتا چلا گیا اتنا ہی یہ مجھ سے دور بھاگتے رہے۔وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا اَصَابِعَهُمْ فِى اذانهم اور جب بھی میں نے ان کو بلایا اور بلانے میں میری یہ غرض نہیں تھی کہ میری طاقت بڑھے، یہ خواہش نہیں تھی کہ میرا جتھہ پیدا ہو، نہ مجھے کوئی ذاتی حرص تھی ، خالصتاً اس لئے ان کو بلایا کہ تو ان کو بخش دے یعنی قوم پر رحم کے جذبہ کے سوا میرے بلانے میں کوئی اور نیت شامل نہیں تھی۔ادھر تو میرا یہ حال تھا کہ میں خالصتاً ان کی خاطر ان پر رحم کرتے ہوئے ان کو بلا رہا تھا اور ادھر قوم کا یہ حال تھا کہ وہ میرے بلانے پر اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے اور اپنے سر کے اردگرد کپڑے لپیٹ لیتے تھے کہ اگر انگلیوں کے باوجود بھی کوئی آواز پڑسکتی ہے تو کپڑا لپیٹ لیا جائے اور نوح کو مایوس کر دیا جائے۔وہ کلیہ یہ ارادہ ترک کر دے کہ ہمیں بھی وہ کچھ سنا سکتا ہے۔واصروا اور وہ انکار پر مصر ہو گئے۔وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا اور بڑے ہی تکبر سے کام لیا۔ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُم جِهَارَاكُ ثُمَّ إِلَى أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَاران کہ اے میرے رب میں تو پھر گلیوں میں پکارتا ہوا بھی پھرا۔بلند آواز سے اپنی قوم کو بلا نا شروع کیا کہ شاید کسی کان میں کوئی ایسی آواز پڑ جائے جس سے اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو جائے۔ایسے بھی وقت آتے ہیں بعض دفعہ بعض مبلغین پر کہ جب وہ سمجھتے ہیں کہ فردا فردا تو کوئی آدمی تو بات سننے کے لئے تیار نہیں ، عام اعلان کرتے پھرو۔دیوانہ وار کہتے چلے جاؤ کہ خدا کی طرف سے آنے والا آ گیا ہے۔شاید کسی کان میں کوئی بات پڑ جائے۔جماعت کی تاریخ میں ایسے واقعات بھی گزرے ہیں کہ بعض جگہ جب ہمارے مبلغین گئے اور تمام دیہات کے باشندوں نے کلیۂ انکار کر دیا کہ ایک آدمی بھی تمہاری بات نہیں سنے گا تو وہ کو ٹھے پر چڑھ گئے اور انہوں نے یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ اے گاؤں کی دیوارو! تم سن لو اور اسے گاؤں کی ہوا ؤ ! تم بھی سن لو اور اے آسمان ! تم بھی گواہ رہو کہ میں نے بلند آواز سے قوم کو پیغام پہنچا دیا ہے۔معلوم ہوتا ہے حضرت نوح علیہ السلام پر بھی ایسے حالات آئے تھے کہ بے اختیار اور بے قرار ہو کر وہ بلند آواز سے پکارتے ہوئے گلیوں میں پھرے اور اپنے رب سے یہ عرض کی اِنِّی دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا