خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 258

خطبات طاہر جلد ۲ 258 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۳ء وَاللهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًان قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَونِي وَاتَّبَعُوا مَنْ لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا ن وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا (نوح : ۶-۲۳) سورۃ نوح کی یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں یہ ایک مثال کے طور پر ہیں کہ انبیاء کی دعا ئیں اور نصائح بعض موقع پر اس طرح قرآن کریم میں ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر اور ہم آہنگ کر کے بیان فرمائی گئی ہیں جیسے ایک ڈوری کے بل کھاتے ہوئے دھاگے مل کر ایک ڈوری بناتے ہیں۔یہ مثال بھی ایسے ہی موقع کی ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء جب تبلیغ کرتے ہیں اور اس تبلیغ کے نتیجہ میں انکار کیا جاتا ہے اور کج بحثی سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے، دلائل کے مقابل پر زور دکھایا جاتا ہے، عقل کے مقابل پر جہالت کی باتیں کی جاتی ہیں تو ہمیشہ جواب میں انبیاء معاً اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور دعاہی ان کا جواب ہوتا ہے۔اس کی متعدد مثالیں قرآن کریم میں ملتی ہیں کہ مکالمہ تو ہورہا ہے دشمن سے لیکن اس کو جواب دینے کی بجائے معاً نبی اپنے رب سے باتیں شروع کر دیتا ہے۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کی تبلیغ میں بھی اسی قسم کی مثالیں قرآن کریم پیش فرماتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ میں بھی اسی قسم کی مثالیں پیش فرماتا ہے اور اسی طرح دوسرے انبیاء کے ذکر میں بھی ایسی متعد د مثالیں ملتی ہیں۔یہ جو مثال میں نے پیش کی ہے اس میں بھی حضرت نوح علیہ السلام دعا کی صورت میں اپنے رب کے سامنے عرض کر رہے ہیں کہ اے خدا! میں نے تو قوم کے لئے یہ کچھ کر دیا ہے اس سے زیادہ میرے بس میں کچھ نہیں تھا، اب تو ہی ان کا حساب جانے کیونکہ ان کو سمجھانے کی مجھے تو کوئی اور ترکیب سمجھ نہیں آتی۔اور جس تفصیل کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کی کوششوں کا یہاں ذکر ملتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے مبلغ قوموں کے لئے ایک عظیم الشان سبق ہے۔وہ عرض کرتے ہیں رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا اے اللہ ! میں نے تو نہ دن دیکھا نہ رات راتوں کو بھی اپنی قوم کو نصیحت کی اور دن کو بھی نصیحت کی۔اس میں کیسا درد ہے اور کتنی محنت ہے کہ خدا کی خاطر نہ دن کو آرام کیا نہ رات کو چین