خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 246
خطبات طاہر جلد ۲ 246 خطبه جمعه ۲۹ اپریل ۱۹۸۳ء اگر آپ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ کے زمانے تک کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ یہ دلیل ہمیشہ قائم رہی ہے۔ایک ذرے اور شعشہ کا بھی اس میں فرق نہیں پڑا۔آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو اہل مکہ نے بھی یہی اعتراض کیا کہ تو غلاموں کا مولیٰ بنا ہوا ہے۔تیرے پیچھے بلال ہے، تیرے پیچھے خباب ہے۔اس قسم کے گھٹیا لوگ ( نعوذ باللہ ) تیری جماعت میں شامل ہیں، ہم تجھے کس طرح مانیں۔تمام رؤو سائے مکہ ایک طرف اور تھوڑے سے غریب لوگ، چند غلام اور چندلونڈیاں دوسری طرف۔الغرض آپ کوئی تبدیلی بھی نہیں دیکھیں گے، نہ انبیاء کی نصیحت میں اور نہ ہی ان کی قوم کے جواب میں اور ہمیشہ قوم کو اس شک میں مبتلا پائیں گے کہ اب کوئی ہادی اور رہنما نہیں آسکتا۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے لوگ کہتے ہیں وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلِ کہ ہمیں تو تم میں کوئی فضیلت نظر نہیں آتی۔بَلْ نَظُنُّكُمْ كَذِبین اس لئے ہم واضح طور پر بتارہے ہیں کہ ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔تم مفتری ہو، اس سے زیادہ تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔حضرت نوح علیہ السلام اس دلیل کا کیا جواب دیتے ہیں؟ یہ ایک بہت اہم اور بنیادی بات ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا ایسی نصیحت جو فطرت انسانی سے تعلق رکھتی ہو اس میں چونکہ فلسفیانہ ایچ بیچ نہیں ہوتا اس لئے بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔اس میں تو واضح کر دیا جاتا ہے کہ چاہو تو مانو اور چا ہو تو نہ مانو۔مانو گے تو یہ ہوگا، نہیں مانو گے تو وہ ہوگا۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: يُقَوْمِ اَرَيْتُمُ اِنْ كُنْتُ عَلى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّي وَأَثْنِي رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ اَنْلْزِمُكُمُوْهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَرِهُونَ ) (هود:۲۹) کہ اے قوم ! تم یہ کیوں نہیں سوچتے اور کیوں اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر میں خدا کی طرف سے کھلے کھلے نشانوں کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور میرے خدا نے مجھے اپنی رحمت عطا فرمائی ہے فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ اور یہ بات تمہیں نظر نہ آئے تمہاری آنکھیں اندھی ہو جا ئیں اور نہ پہچان سکیں کہ وہ لوگ جو خدا کی رحمت کے ساتھ آتے ہیں ان کے آثار اور ہوتے ہیں تو تمہار کیا حال ہوگا؟ یہاں بھی بظاہر دعویٰ ہے لیکن دلیل اس کے اندر موجود ہے۔جو اللہ کی رحمت کے ساتھ آتا ہے اس میں اور اس شخص