خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 245
خطبات طاہر جلد ۲ 245 خطبه جمعه ۲۹ / اپریل ۱۹۸۳ء طرح کا ایک آدمی اٹھا ہے اور خدا نے اس سے کلام کرنا شروع کر دیا ہے، ہم یہ ماننے کے لئے تیار نہیں۔اس سے ایک اور بات کا پتہ لگا اور وہ یہ کہ وہ پہلا نبی جس کی نصیحتیں محفوظ کی گئیں اس کے زمانے میں بھی یہی عقیدہ ہو گیا تھا کہ اب کوئی ہدایت دینے والا نہیں آئے گا۔یعنی حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں بھی لوگ نفسیاتی لحاظ سے اس بیماری میں مبتلا ہو چکے تھے کہ اب کوئی نہیں آسکتا۔پہلے زمانوں میں خدا نے کسی کو بھیج دیا ہو تو ہم مان لیتے ہیں لیکن اب کسی کی ضرورت نہیں۔گویا حضرت نوح کے زمانے کا انسان اپنے آپ کو بڑا Advanced اور ایسا ترقی یافتہ سمجھ رہا تھا جس کی عقل روشن ہو چکی تھی۔وہ سمجھتا تھا کہ اب میں بالغ نظر ہو گیا ہوں۔پرانے لوگوں میں ان کو کوئی نصیحت کرنے والا آیا ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن ہمارے اندر ہم میں سے کوئی اٹھے اور کہے کہ خدا مجھ سے کلام کرتا ہے یہ ہم نہیں مانیں گے۔پس نبوت کے ہمیشہ کے لئے بند ہونے کا تصور اسی پہلے نبی کی قوم نے پیش کیا جس کے واقعات قرآن کریم نے ہمارے سامنے تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں۔فرماتا ہے: بہر حال حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے جو جواب دیا اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَانَرُبكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا (هود: ۲۸) قوم کے بڑے لوگوں نے کہا اے نوح ! ہم تو تجھے اپنے جیسا ایک عام انسان دیکھ رہے ہیں۔وَمَا نَرِيكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْي (هود: ۲۸) صرف یہی نہیں کہ تم ہم جیسے عام انسان ہو بلکہ ہم میں سے بھی ایک حقیر انسان ہو کیونکہ تمہاری پیروی کرنے والے سارے کے سارے گھٹیا قسم کے لوگ ہیں۔حقیر لوگوں سے تیرا آغا ز ہوا ہے۔ہم کسی بڑے عالم کو تمہاری جماعت میں نہیں دیکھتے، نہ ہی کسی بادشاہ اور بڑے نواب نے تمہیں مانا ہے۔بَشَرًا مِثْلَنَا کے الفاظ تو ہم تیرے احترام اور عزت کے لئے کہہ چکے مگر جب ہم صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ تو تو عام انسان بھی نہیں بلکہ ایک ذلیل انسان ہے جو حقیر اور گھٹیا لوگوں کا لیڈر بنا ہوا ہے۔(نعوذ بالله من ذالك )