خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 244

خطبات طاہر جلد ۲ 244 خطبه جمعه ۲۹ اپریل ۱۹۸۳ء نے کسی کو ہدایت کے لئے بھیجا ہے ہمیشہ سب سے بڑی وجہ انکار کی یہی تعجب ہوا ہے۔لوگ یہی کہتے رہے ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بیٹھے بٹھائے اچانک اللہ تعالیٰ نے ہم جیسے ایک عام انسان سے کلام شروع کر دیا ہو اور اس کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہو کہ جاؤ اور قوم کو نصیحت کرو اور اسے ڈراؤ۔قرآن کریم بار بارایسے تعجب کا ذکر فرماتا ہے اور جب آپ تاریخ ابنیاء پر نظر دوڑائیں تو ہمیشہ اس بات کو سچا پائیں گے۔پس دعوی ایسا ہے جس کی تاریخ انسانی گواہی دے رہی ہے۔اس کے سوا کوئی اور واقعہ نظر ہی نہیں آتا۔اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میری سچائی کی دلیل اس پیغام میں ہے جو میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں اور وہ یہ ہے کہ لِيُنذِرَ کُھ تمہیں ڈرایا جائے ، وَلِتَتَّقُوا تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ اور تمہیں ایسے راستوں پر ڈالا جائے جن پر چلنے کے نتیجے میں تم پر رحم کیا جائے۔یہ بھی بظاہر ایک دعوئی ہے لیکن اپنی صداقت کی دلیل اپنے اندر رکھتا ہے۔آپ دنیا میں کبھی کوئی جھوٹا نہیں دیکھیں گے جو یہ کام کرنے کے لئے آیا ہو۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جھوٹا نیکی کی تعلیم دے۔جھوٹے کی تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو پتہ لگے کہ اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں رحم کیا جائے گا اور جھوٹے کی تعلیم پر عمل کریں تو معلوم ہوگا کہ بڑے خطرناک واقعات سے متنبہ کر رہا ہے کہ تم اپنی اصلاح کر لوور نہ ہلاکت تمہارے سامنے کھڑی ہے اور جلد یا بدیر تم اس ہلاکت میں مبتلا ہو جاؤ گے؟ یہ تین باتیں جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے متعلق بیان فرمائی ہیں ایسی ہیں کہ جب سے دنیا بنی ہے کسی جھوٹے نے نہیں کہی ہیں اور نہ ہی اس کا یہ مقصد ہوتا ہے۔پس قرآن کریم کی نصائح جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سیدھی سادی نصائح ہیں جو بظاہر دلیلیں ساتھ نہیں رکھتیں لیکن مبنی برحق ہیں۔اس کو کہتے ہیں توَاصَوْا بِالْحَقِّ کہ مومنوں نے حق کے ساتھ نصیحت کی۔حقیقت یہ ہے کہ سچائی میں اتنا وزن ہے اور اس کے اندر قائل کرنے کی اتنی طاقت ہے کہ وہ خود اپنی دلیل بن جاتی ہے۔جس طرح سورج خود اپنی دلیل بن جاتا ہے، روشنی خود اپنی دلیل ہوتی ہے اسی طرح سچائی خود اپنی دلیل ہوتی ہے۔کسی ایچ بیچ کی اس کوضرورت نہیں ہوتی۔حضرت نوح علیہ السلام کے پیغام کو سن کر ان کی قوم نے وہی جواب دیا جس کے متعلق وہ پہلے ہی اس کو متنبہ کر چکے تھے۔آپ نے ان کو بتایا کہ میں جانتا ہوں کہ تمہارے دل کے کیا حالات ہیں؟ میں خوب سمجھتا ہوں کہ تمہارے ذہن میں کیا باتیں گزر رہی ہیں اور کیا شکوک ہیں؟ تم کہتے ہو ہماری