خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 227
خطبات طاہر جلد ۲ 227 خطبه جمعه ۱۵ را پریل ۱۹۸۳ء سے پڑ رہا ہے کیونکہ پڑنے والے سوراخ کو اللہ سے جوڑ دیا۔یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ وہ اپنی کوششوں سے حاصل کرتے ہیں اس کو خرچ کرتے ہیں کیونکہ انسانی کوششیں تو محدود ہوتی ہیں، ان کا ماحصل تو تھوڑ اسا ہوتا ہے، وہ خرچ ہو کر ختم بھی ہو سکتا ہے بلکہ فرمایا مِمَّارَ زَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ کہ ہم ان کو جو دیتے چلے جاتے ہیں وہ اس کو خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے دینے کے راستے تو نہ ختم ہونے والے ہیں۔اگر انسان تمام کائنات کی طاقتوں کو بھی خرچ کر دے تب بھی اگر ایک طرف اللہ سے تعلق قائم ہے تو اس کے خزانے ختم نہیں ہو سکتے۔پس یہ کیسی عظیم الشان آیت ہے اور مومن کی ترقی کا اس میں کتنا وسیع مضمون بیان کر دیا گیا ہے۔اگر آپ غور کریں تو آنحضرت ﷺ کو جو کوثر عطا ہوا وہ یہی کوثر ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ اس کوثر کی ایک شکل یہ بنتی ہے کہ آپ کے متبعین کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ جو کچھ بھی ہم تمہیں عطا کریں گے وہ تم نے روک کر نہیں رکھنا بلکہ اسے آگے خرچ کرتے چلے جانا ہے اور ہم اس بات کے ضامن ہیں کہ تمہارے خزانے کبھی ختم نہیں ہوں گے کیونکہ ہمارے خزانے کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کی طرف قرآن کریم مسلمانوں کو بلاتا ہے اور جس کی طرف قرآنی ارشاد فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ کے تابع میں تمام احباب جماعت کو بلا رہا ہوں۔میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ اپنے دیانت اور تقویٰ کے معیار کو بلند رکھتے ہوئے محض خدا کی خاطر ہر بھلائی میں دنیا سے آگے نکل جائیں گے اور جتنا زیادہ آگے بڑھیں گے اتنا زیادہ دنیا پر خرچ بھی کریں گے۔آپ کی تو کوئی حد نہیں ہے آپ تو وہ قوم ہیں جن کے امام کے متعلق حضرت محمد مصطفی ﷺ نے خبر دی تھی کہ وہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے والا ہوگا۔فرمایا: لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِّنْ هَؤُلَاءِ۔(بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورة الجمعة باب قوله تعالى و اخرين منهم لما يلحقوا بهم) کہ وہ تو اتنی عظیم ہمت والا انسان ہوگا، اتنی بلند جست ہوگی اس کی کہ اگر ایمان دنیا سے اٹھ کر ثریا پر بھی پہنچ گیا تو وہ اسے کھینچ کر دوبارہ دنیا میں لے آئے گا۔پس جو امام اس شان کا ہو اور اتنی بلند ہمت رکھنے والا ہو کہ حضرت محمد مصطفی ہے اس کو یہ خوشخبری دے رہے ہوں کہ ہاں ! تو جائے گا اور آسمان کی بلندیوں سے بھی ایمان کو کھینچ کر دوبارہ لے آئے گا، تیرے قدم ثریا پر پڑ رہے ہوں گے،