خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد ۲ 226 خطبه جمعه ۱۵ را بریل ۱۹۸۳ء اس لئے اللہ تعالی نے ہر مسلمان کو ہر اچھی چیز میں سخاوت کا حکم دیا ہے۔یہ دوسرا امر ہے جو خیرات میں ترقی کرنے کے لئے بڑا ضروری ہے۔چنانچہ قرآن کریم اس نکتے کو اس طرح بیان فرماتا ب يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ: ۴) کہ مومن بندے عبادتوں کو قائم کرتے ہیں اور پھر جو کچھ ہم ان کو عطا کرتے ہیں اس میں سے آگے خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ بڑا دلچسپ مضمون ہے۔ترتیب بھی بڑی پیاری رکھی گئی ہے۔فرمایا ان کو جو کچھ عطا ہوتا ہے وہ صرف جسمانی کوشش اور محنت سے عطا نہیں ہوتا بلکہ اس میں ان کی عبادتوں کا بھی دخل ہوتا ہے۔معلوم ہوا یہ عام انسان کی Achievements کا ذکر نہیں بلکہ ایسے مومن بندوں کی خصوصی Achievements کا یا جو کچھ وہ حاصل کرتے ہیں اس کا ذکر ہے جن کو جو کچھ عطا ہوتا ہے اس میں ان کی عبادتوں کا بھی دخل ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا فضل بھی شامل ہوتا ہے۔ایسی سوسائٹی جب قیام صلوۃ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو عام بندوں سے زیادہ عطا کرتا ہے اور جو کچھ ان کو عطا کرتا ہے اسے وہ اپنے تک روک کر نہیں بیٹھ جاتے بلکہ وہ اس کو آگے جاری کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کی تفسیر میں یہ عارفانہ نکتہ ہمارے لئے بیان فرمایا کہ یہاں صرف روپے پیسے کا ذکر نہیں ہے بلکہ تمام صلاحیتوں کا ذکر ہے۔(البدر جلد نمبر ۴۸ مورخ ۲۴ستمبر۱۹۰۳) اگر کوئی اچھا وکیل ہے اور اس کو وکالت کا ایک اچھا نکتہ ہا تھ آیا ہے تو وہ اس سے بھی قوم کو فائدہ پہنچارہا ہوتا ہے، کسی طبیب کو اگر کوئی اچھا نسخہ مل گیا ہے تو وہ اسے اپنے او پر روک کر نہیں رکھتا بلکہ وہ ساری قوم کو اس سے فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، کسی صنعتکار کو اگر کوئی اچھا نکتہ ہاتھ آ گیا ہے تو وہ دوسرے صنعت کاروں میں اعلان کرتا ہے کہ آؤ مجھ سے یہ نکتہ سیکھو، اس سے بہت فائدہ پہنچے گا اسی طرح علوم کی ہر شاخ میں جس کو جو کچھ حاصل ہو جائے وہ اسے خدا کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ایسے خرچ کرنے والوں کو اس آیت میں خوشخبری دی گئی ہے کہ اس خرچ کے نتیجہ میں جو اللہ کی خاطر کیا جاتا ہے کبھی بھی ان کے اموال، ان کی طاقتیں اور ان کی صلاحیتیں ختم نہیں ہوں گی کیونکہ مِمَّارَ زَقْنَهُم يُنْفِقُونَ میں ایک جاری چشمے کا ذکر ہے۔ایک طرف سے نکل رہا ہے تو دوسری طرف سے پڑ بھی رہا ہے اور جس طرف سے نکل رہا ہے وہ سوراخ اس سوراخ کا مقابلہ ہی نہیں کر سکتا جس