خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 219
خطبات طاہر جلد ۲ 219 خطبه جمعه ۱۵ را پریل ۱۹۸۳ء اسی قسم کی دوسرے کھیلیں کھیلنے والوں نے اپنی کھیلوں کو اتنی عظمت اور اتنا مقام دیا کہ اب وہ دنیا کی چوٹی کی کھیلوں میں شمار ہوتی ہیں۔ہمارے ہاں ایک کھیل میروڈ بہ تھی جو بعض پہلوؤں سے ہیں بال سے ملتی ہے لیکن میروڈ بہ کا کھیلنا کوئی خاص قابل فخر فعل نہیں سمجھا جاتا بلکہ عموماً وہی لوگ کھیلتے ہیں جن کو اور کچھ نہ میسر ہو حالانکہ اس کھیل میں بھی خوبی کے بہت سے پہلو موجود ہیں۔انسان کی صحت کو ترقی دینے کے لئے اس میں پھرتی پیدا کرنے کے لئے اور ایک دوسرے سے چستی کا مقابلہ کرنے کے لئے اس میں بہت سے عناصر شامل ہیں۔پس جماعت احمدیہ کو چاہئے کہ دنیا کے جس ملک میں بھی جماعت پائی جاتی ہے وہاں کی مقامی کھیلوں کو بھی فروغ دے اور ان کھیلوں کو بھی فروغ دے جو اس وقت دنیا میں مسلم ہو چکی ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہر کھیل میں باقی سب سے آگے بڑھیں اس لئے جو مسلمہ کھیلیں ہیں ان کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔یہ درست ہے کہ آہستہ آہستہ کبڈی افریقہ میں بھی رائج ہوسکتی ہے، انڈونیشیا میں بھی رائج ہو سکتی ہے بلکہ موسم کے لحاظ سے جہاں جہاں انسان اس کو قدرتی طور پر طبعی طور پر کھیل سکتا ہے وہاں رائج ہو جانی چاہئے۔لیکن جو مروجہ کھیلیں دنیا کو مسلم ہو چکی ہیں ہم ان کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے اور ان میدانوں میں بھی ہمیں لازماً دوسروں کو شکست دینی ہوگی۔میری خواہش ہے کہ ہر کھیل میں مسلمان آگے بڑھیں اور یہ خواہش ہمیں اسلامی تاریخ میں سنت اولیاء کے طور پر نظر آتی ہے۔آنحضرت ﷺ کی تو ساری زندگی ہی فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ کا ایک عظیم الشان نمونہ تھی لیکن امت کے مختلف بزرگوں نے بھی مختلف چیزوں کو اختیار کیا اور ان میں ایسے ایسے نمونے دکھائے جو تاریخ کا ایک درخشندہ باب بن گئے۔ہندوستان میں بھی ایسے بزرگ ہوئے ہیں جن کا کھیلوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس میدان بھی دوسروں پر بازی لے گئے۔چنانچہ ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ وہ کسی جگہ سے گزر رہے تھے تو پتہ لگا کہ ایک غیر مسلم فلاں کھیل میں اتنی ترقی کر گیا ہے کہ وہ فخر کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہے کہ آج دنیا کے کسی مذہب کا بھی کوئی پیروکار ایسا نہیں جو مجھے شکست دے سکے۔اس بزرگ نے سفر کا ارادہ ملتوی کر دیا اور جب تک ان کو اس کھیل میں کمال حاصل نہیں ہو گیا وہ وہیں ٹھہرے رہے ( شاید کئی ماہ لگے ہوں گے ) اور جب تک اس غیر مسلم کو شکست دے کر یہ ثابت نہیں کیا کہ ایسا مسلمان بھی دنیا میں موجود ہے جو تمہارے اس غرور کو توڑ سکتا ہے کہ