خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 206

خطبات طاہر جلد ۲ 206 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۳ء کرنے کی کوشش کرے۔إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ (الغاشیہ : ۲۴) تیری تذکیر کے بعد جو شخص بھی پیٹھ پھیرے گا اور انکار کرے گا فَيُعَذِّبُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ (الغاشیہ : ۲۵) پھر اللہ کا کام ہے اس کو عذاب دینا اور وہ عذاب اکبر میں اسے مبتلا کرے گا۔میں تجھے یہ حق نہیں دیتا کہ تو ان کے لئے عذاب کا سامان کرے۔چنانچہ آنحضرت علی کو کسی جگہ بھی عذاب دینے والا بیان نہیں فرمایا۔ہاں رحمۃ للعالمین قرار دیا ہے۔پس حق کے ساتھ نصیحت کرنے کے ایک یہ معنی ہوئے کہ اگر کوئی شخص نصیحت کو سن کر پیٹھ پھیر لیتا ہے یا سننے سے انکار کر دیتا ہے تو اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرنی ، اس کی مرضی کے خلاف سے کھینچ کر لانے کی کوشش نہیں کرنی ، اسے پیغام دینا ہے اور پیغام اس طرح دینا ہے جیسا کہ حق کا تقاضا ہے۔وہ ایک الگ تفصیلی مضمون ہے۔چنانچہ ایسے تمام لوگ جو احمدیت کی تبلیغ سنتے ہیں اور برا مناتے ہیں اور پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں ان تک پیغام کا پہنچانا تو ہمارا فرض تھا لیکن ان کے اس طرح صل الله پیچھے پڑ جانا کہ جو ہمارے حق سے تجاوز کرنے والی بات ہو یہ درست نہیں۔آنحضور ﷺ نے پیغام دیئے ،تکلیفیں اٹھا کر بھی پیغام دیئے مگر جب لوگوں نے انکار کر دیا تو آپ واپس اپنے گھر تشریف لے آئے۔چنانچہ اس مضمون کے متعلق قرآن کریم میں یہ بات اور آگے بڑھا کر بیان کرتا ہے کہ بعض دفعہ پھر آگے سے جہالت شروع ہو جاتی ہے بختی شروع ہو جاتی ہے، گالیاں دی جاتی ہیں تو اس کا جواب بھی نہیں دیتا۔اس کے مقابل پر ضد نہیں کرنی۔یہ ہے تمہارا دائرہ کا رچنا نچہ فرمایا: وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوْا سَلَمَّا ( الفرقان: ۶۴) اس میں دو پیغام بڑے واضح ہیں۔ایک یہ کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ یہ سلام رخصت کا سلام ہے۔اس میں یہ پیغام ہے کہ جب ایسے لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہو جو جہالت پر اتر آئیں تو پھر وہاں بیٹھے رہنے کی ضرورت نہیں۔ان کو اس حال میں رخصت کرو کہ ابھی امن ہو اور تمہاری طرف سے یہ پیغام ہو کہ سلامتی ہو تم پر۔ہم تمہارے اندر فساد برپا کرنے کے لئے نہیں آئے۔ہم تو تمہارے فساد کو سلامتی میں بدلنے کی خاطر آئے تھے۔پس اگر تم اسے قبول نہیں کرتے اور اس بات پر مصر ہو کہ فساد پھیلتا رہے اور پہلے سے بڑھ جائے تو پھر ہماری جدائی ہے۔ایسے موقع پر مومن کی شان یہ ہے کہ السلام علیکم کہہ کر علیحدگی اختیار کر لے۔