خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 205

خطبات طاہر جلد ۲ 205 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۳ء اور حق طریق پر بلائیں گے۔ بِالصَّبْرِ کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ صبر کی طرف بلائیں گے اور صبر کے لا میں کے اور صبر کے ساتھ بلائیں گے اور بڑ گے اور بڑے صبر کے ساتھ وہ اس بات پر قائم رہا ساتھ وہ اس بات پر قائم رہیں گے اور جن کو وہ حق کی طرف بلائیں گے ان کو یہ تعلیم دیں گے کہ تم بھی صبر کرو۔ ان چار معنوں کے لحاظ سے مضمون بہت وسیع ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ صلى الله عروسه حق کی طرف بلانے اور حق کے ساتھ بلانے کے کیا معنی ہیں ۔ قرآن کریم نے جتنے بھی واقعات بیان کئے ہیں ان سب میں حق کی طرف بلانے کے اسلوب بیان کر دیئے گئے ہیں ۔ چنانچہ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ کو دیکھ لیں وہ اس مضمون کو خوب کھولتی چلی جاتی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفی ﷺ تک یہ مضمون ارتقا پذیر ہے۔ یہ بڑھتا چلا جاتا ہے لیکن بِالْحَقِ میں بیان کردہ طریق کار سے تجاوز نہیں ملے گا۔ یہ ایک خاص اور معین طریق کار ہے جس کو حق کا طریق کہا گیا ہے اور جسے اختیار کرنے میں انبیاء نے کمال کر دکھایا اور اگر چہ انبیاء کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے بڑے سبق ملتے ہیں لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات بابرکات پر جا کرتو یہ مضمون خوب واضح ہو جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جس طرح اور جس خدا کی طرف بلایا اسی طرح اسی خدا کی طرف بلانے کا نام دراصل حق کی طرف بلانا ہے۔ آپ نے جس طریق پر خدا کی طرف بلایا اسی طریق کے ساتھ خدا کی طرف بلانے کا نام حق کے ساتھ بلانا ہے۔ ۔ الله اس مضمون کے متعلق بعض امور پر میں آئندہ روشنی ڈالوں گا کیونکہ یہ ایک بہت ہی گہرا اور تفصیلی مضمون ہے ۔ اس وقت مختصراً میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حق کے ساتھ حق کی طرف بلانے میں ایک بڑا نمایاں اور واضح پیغام یہ ہے کہ تمہیں بلانے کے لئے جتنے حقوق دیئے گئے ہیں اور جو دائرہ کار تمہارا مقرر کیا گیا ہے اس سے آگے بڑھ کر تمہیں بلانے کا اختیار نہیں ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرُهُ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرٍ ( الغاشیہ : ۲۲-۲۳) صلى الله عليه تجھے ہم نے بکثرت نصیحت کرنے والا اور بڑے زور کے ساتھ نصیحت کرنے والا مقرر کیا ہے ایسا نصیحت کرنے والا جو بالآخر مجسم ذکر الہی بن جاتا ہے لیکن داروغہ نہیں بنایا۔ تجھے یہ حق نہیں دیا کہ جو لوگ نہ سننا چاہیں ان کو زبردستی سنائے ، جو قبول نہ کرنا چاہیں زبر دستی ان کے دلوں میں بات داخل زبردستی