خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 204

خطبات طاہر جلد ۲ 204 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۳ء تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ کا زمانہ اس روشنی کے تین سو سال بعد کا زمانہ ہے (لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ ص۶۔۸) اور وَالْعَصْرِ میں جس زمانہ کی قسم کھائی گئی ہے اور جس کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے اس کی مدت بھی بیان فرما دی۔(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے خطبہ جمعہ ۲ اپریل ۸۳، ص۲۳۳) گویا یہ معنے ہوئے کہ اس ہزار سال کو ہم گواہ ٹھہراتے ہیں جو روشنی کے زمانہ کے بعد آئیں گے اور وہ بہت ہی نقصان کا سودا ہو گا۔وہ زمانہ انسان کے لئے سب سے زیادہ گھاٹا کھانے والا زمانہ ہوگا۔یہ زمانہ کب تک چلے گا؟ یہ اس وقت تک چلے گا جب تک دوبارہ روشنی کی پونہیں پھوٹے گی اور روشنی کی صبح طلوع نہیں ہوگی۔چنانچہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلحت اس ہزار سال کے بعد یعنی چودہویں صدی کے سر پر پھر ایک روشنی پھوٹے گی ، پھر ایک صبح طلوع ہوگی اور ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ایمان لانے والے ہوں گے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے۔وہاں سے استثنا کا ایک دروازہ کھلے گا اور بڑھتا چلا جائے گا اور یہ روشنی پھیلتی چلی جائے گی اور گھاٹے والے انسان کو فائدہ والے انسانوں میں تبدیل کرتی چلی جائے گی لیکن ان کے غلبہ کے زمانہ کو ایسا فوری قرار نہیں دیا کہ ادھر صبح نمودار ہوئی اور ادھر ساری دنیا پر وہ روشنی غالب آگئی بلکہ نقشہ اس قسم کا کھینچا ہے کہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کی صبح نے رفتہ رفتہ انسان کے گھاٹے کے سودے کو فائدے کے سودے میں تبدیل کرنا ہے۔یہ جدو جہد ایک لمبے اور صبر آزما دور سے گزرے گی اور اس میں بڑی محنت اور کاوش کی ضرورت ہوگی۔گویا اس قسم کا واقعہ نہیں ہوگا کہ ادھر سورج نکلا اور ادھر ساری دنیا میں روشنی نمودار ہوگئی بلکہ یہ ایک ایسی صبح ہے جسے آنسوؤں سے کھینچ کر لانا پڑتا ہے۔یہ ایک ایسی صبح ہے جسے مسلسل محنت ، جد و جہد اور قربانیوں کے ذریعہ اور یقین محکم کے ساتھ رفتہ رفتہ اس طرح لانا پڑتا ہے جیسے جوئے شیر لائی جاتی ہے۔چنانچہ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ میں نقشہ یہ کھینچا کہ وہ چندلوگ جو ایمان لانے والے ہوں گے اور عمل صالح کر رہے ہوں گے وہ باقی انسانوں کو تبدیل کر دیں گے۔وہ کس طرح تبدیل کریں گے فرمایا وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وہ تو حق کی طرف بلانا شروع کر دیں گے وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ اور بڑے صبر کے ساتھ حق کی طرف بلائیں گے۔یہاں بِالْحَقِّ اور بالصبر کے اور معنی بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ حق کی طرف بلائیں گے