خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 203
خطبات طاہر جلد ۲ 203 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۳ء سورۃ العصر کی تفسیر اور صبر کے ساتھ نصیحت کرنے کی تلقین ( خطبه جمعه فرموده ۸ راپریل ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ ) تشهد و تعوذ وسورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ العصر کی تلاوت کی : وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصُّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ اور پھر فرمایا : قرآن کریم کی اس چھوٹی سی سورۃ میں زمانہ کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے اور بتایا ہے کہ انسان اس زمانہ میں بحیثیت مجموعی گھاٹے میں جا رہا ہوگا اور نقصان کے سودے کر رہا ہوگا۔ وَالْعَصْرِ میں اس زمانہ کی نشاندہی بھی فرمادی گئی ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سے یہ استنباط فرمایا ہے کہ اسلام کے صلى الله پہلے تین سو سال تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشاد کے مطابق روشنی کا زمانہ ہے اس لئے اس زمانہ کو ہرگز گھاٹے والا زمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ( صحیح بخاری کتاب المناقب باب فضائل اصحاب النبی ﷺ وہ تو ایسا زمانہ تھا کہ انسان بحیثیت مجموعی کبھی اتنے نفع اور اتنے فائدہ کے سودے نہیں کر رہا تھا جتنے تھا صلى الله فائدہ مند سودے حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے صحابہ اور پھر تابعین کے ہاتھوں کئے جارہے