خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 195

خطبات طاہر جلد ۲ 195 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء جہاں تک نماز با جماعت کا تعلق ہے کجا یہ کہ انسان گھر میں بیٹھا ہوا ہو یا دفتر میں ہو اور مسجد تک نہ جائے اور کجا آنحضرت ﷺ کا اسوہ اور آپ کی تعلیم کہ ایک اندھا جو دور سے اذان کی آواز سنتا ہے اس کو بھی گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت دینے کے بعد اجازت واپس لے لیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تمہیں جماعت کے بغیر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔واقعہ یوں ہوا کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک نابینا حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ مدینہ کی گلیوں میں ٹھوکریں لگتی ہیں مختلف حدیثوں میں مختلف تفاصیل ملتی ہیں۔کہیں آتا ہے کہ اس نے کہا رات کو جنگلی جانوروں کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور کہیں آتا ہے کہ مجھے ساتھ لے جانے والا کوئی نہیں ہے اس لئے مجھے اجازت دی جائے کہ میں گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کروں۔حضور نے اجازت فرما دی۔جب وہ اٹھ کر جانے لگا اور ابھی قدم باہر رکھا ہی تھا تو حضور نے اسے واپس بلایا کہ بات سن جاؤ۔اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا بات ہے؟ حضور نے فرمایا هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلواة کہ کیا تمہیں نِدَاء بِالصَّلوةِ آتی ہے؟ اس سے مراد اذان لے لیں یا تکبیر لے لیں حضور کا مقصد یہ تھا کہ نماز کی طرف بلانے کی آواز تمہارے کان میں پڑتی ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں آواز سنتا ہوں۔تو فرمایا پھر جواب دیا کرو۔تمہیں یہ اجازت نہیں ہے کہ تمہارے کانوں میں آواز پڑے اور اس کے باوجود تم انکار کردو آنحضرت ﷺ کا تعلیم دینے کا عجیب طریق تھا اور اتنا لطیف اور پیارا کہ آپ کی باتوں کی تہ میں جائیں تو حسن ہی نظر آتا ہے۔اس نا بینا آدمی کو یہ تعلیم دی کہ تم آنکھوں سے تو محروم ہولیکن کانوں کو ثواب سے کیوں محروم رکھتے ہو؟ جن اعضا کے ذریعے تمہیں خدا کی طرف بلایا جا رہا ہے حید مسلم کی روایت ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِى قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِصَ لَهُ فَيُصَلِّي فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلوةِ فَقَالَ نعَمْ قَالَ فَاجِبُ۔(مسلم کتاب المساجد ومواقع الصلوۃ باب يجب اتيان المسجد على من سمع النداء) (جاری)