خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 184 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 184

خطبات طاہر جلد ۲ 184 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء غرض وہ لوگ جو اس قسم کے لین دین میں روپیہ دے چکے ہیں ان سے میں کہتا ہوں کہ منافع کے نام پر ایک آنہ بھی لینا ان پر حرام ہے اور وہ لوگ جو اس قسم کی تجارتیں کر رہے ہیں وہ دھو کہ دیتے ہیں۔میں ان سے بھی یہ کہتا ہوں کہ عالمی مالی نظام کی مجبوری کے نتیجہ میں بینکوں کی معرفت پہلے سے جو گندگی موجود ہے اور اس میں ملوث ہونے میں ہم کسی حد تک مجبور ہیں وہ کام آپ بے شک کریں لیکن تقویٰ کے ساتھ ڈرتے ڈرتے ، خدا کا خوف کھاتے ہوئے کریں اور حتی المقدور سود سے بچنے کی کوشش کریں لیکن جماعت کو گندہ نہ کریں۔اگر وہ احمدیوں کے پاس جائیں گے تو پیسے کا اور زیادہ لالچ دے کر ان کو خراب کر دیں گے خواہ دیانتداری سے ایسا کریں تب بھی وہ جماعت کے لوگوں کو گندہ کر رہے ہوں گے۔ایسے لوگوں کے متعلق قرآن کریم کا یہ اعلان ہے : فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ اس میں ایک اور رنگ میں تنبیہ کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم سودی کاروبار سے باز نہیں آؤ گے تو پھر تم اللہ سے ٹکر لو گے تو خدا تمہیں سزا دے گا۔تمہارے روپوں میں برکت نہیں رہے گی۔تمہاری خوشیاں چھین لی جائیں گی۔اگر ایک مومن ایسی حرکتیں کرتا ہے تو پھر جنگ کے معنی بدل جائیں گے۔مراد یہ ہے کہ بہت اچھا، تم خدا سے ٹکر لیتے ہو تو پھر خدا کی طرف عقوبت کے لئے تیار ہو جاؤ۔تم کس طرح زبر دستی امیر ہو جاؤ گے اور زبردستی خدا کے نظام کو نظر انداز کر کے تمہاری دولتیں کیونکر خوشیاں پہنچا سکیں گی۔فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ کا مطلب یہ ہے کہ بہت اچھا! تم خدا کے نظام سے ٹکر لوخدا تمہیں سزا دیگا اور تمہارے روپوں کی برکتیں چھین لے گا اور تمہارے گھروں کی خوشیاں نوچی جائیں گی تمہاری اولادوں کی برکتیں اٹھ جائیں گی اور تم زبردستی خدا سے کچھ بھی نہیں لے سکتے۔اللہ تعالیٰ بڑا رؤوف اور رحیم ہے۔فرماتا ہے جو ہو چکا سو ہو چکا اب ہم تمہیں تو بہ کی طرف بلاتے ہیں۔چنانچہ سود دینے والوں کو کہتا ہے وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ تم تو به کرو تو ہم یہ نہیں کہتے کہ تمہارا روپیہ اب واپس نہیں آئے گا اور روپے کے اب تم حق دار نہیں رہے، تم پہلے سود کھا بیٹھے ہوگئی قسم کے فائدے اٹھا چکے ہو اس لئے روپیہ اب تمہارا نہیں رہا۔فرماتا ہے ہم یہ سزا تمہیں نہیں دیتے اس کی معافی دے دیتے ہیں آج کے بعد جو تمہارا اصل زر ہے وہ تم واپس لینے کا حق رکھتے ہولَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ جب تم توبہ کر بیٹھے ہوتو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا اور نہ تم ظلم